دادا قیدی ۔۔۔۔ مترجم: مسعود احمد برکاتی

0
339

شہ پارہ عالم ۔۔۔۔۔عالمی ادب سے انتخاب

تحریر:لیو ٹالسٹائی ۔۔۔۔ تلخیص و ترجمہ:مسعود احمد برکاتی

کوشا ایک تاجر تھا۔اس کا شمار شہر کے اچھے تاجروں میں ہوتا تھا۔جب اسے راکسی نامی گائوں میں ہونے والے تجارتی میلے کی خبر ملی تو اس نے اپنی بیوی سے میلے میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔بیوی نے پہلے تو کوشا کو جانے کی اجازت دے دی مگر دوسرے روز جب وہ سفر کی تیاری کر رہا تھا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: تم میلے میں نہ جائو،میں نے رات ایک بُرا خواب دیکھا ہے۔میرا دل کہتا ہے یہ سفر تمھیں راس نہیں آئے گا۔
کوشا بیوی کی بات سُن کر ہنسا ۔وہ ایسی تمام باتوں کو بے کار اور فضول سمجھتا تھا۔ اُس نے بیوی سے کہا: ’’ یہ تمھارا وہم ہے۔میرا میلے میں جانا بہت ضروری ہے ،مگر یہ تو بتائو،وہ خواب تھا کیا؟
’’میں نے دیکھا کہ تم میلے سے واپس آئے ہو۔تمھارے یہ سیاہ خوبصورت بال سفید ہو گئے ہیں۔تمھارے چہرے پر بڑھاپے کی خزاں چھا گئی ہے‘‘۔بیوی نے خواب سناتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔
اس نے بیوی کو تسلی دی :’’خواب ہمیشہ سچ نہیں ہوتے۔تم فکر مند نہ ہو۔خدا نے چاہا تو یہ میلا میرے لیے اچھا ہی ثابت ہو گا۔‘‘
پھر اس نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔راکسی گائوں جانے کے لیے اسے بس سے سفر کرنا تھا۔بس دوسرے دن دوپہر کو راکسی گائوں پہنچتی تھی اور رات میں چوں کہ بس سروس بند ہو جاتی تھی ،بس رات کو ایک سرائے پر رکی۔تمام مسافروں نے سرائے میں کمرے کرائے پر لیے ۔کوشا نے بھی ایک کمرہ کرائے پر حاصل کر لیا۔سرائے کے جس کمرے میں وہ ٹھیرا ،اس کے برابر والے کمرے میں ایک اور تاجر مقیم تھا۔دونوں کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں وہ ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کافی پی اور شب بخیر کہہ کر ایک دوسرے سے رخصت ہو گئے۔ کوشا صبح سویرے اُٹھا اور بس میں سوار ہو کر راکسی گائوں پہنچ گیا۔
راکسی کے میلے میں رایست بھر سے سینکڑوں تاجر اپنا تجارتی سامان فروخت کرنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔ کوشا خریداری کی نیت سے آیا تھا اس لیے وہ میلے میں سجی دکانوں کا تفصیلی جئزہ لینا چاہتا تھا تا کہ وہ اسی اشیا خریدے جو اس کے گائوں میں آسانی سے فروخت ہو جائیں اور اسے خاطر خواہ نفع بھی حاصل ہو سکے۔ ابھی وہ دکانوں کا سر سری جائزہ لے رہا تھا کہ اس نے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک پولیس افسر کو اپنی طرف آتے دیکھا۔
کوشا تم ہی ہو؟
جی ہاں! مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟مجھ سے کوئی غلطی ہوئی کیا؟ کوشا نے حیرت سے پوچھا۔
تم نے رات کہاں بسر کی؟کہاں سے آئے ہو؟ پولیس افسر نے اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ کوشا کوئی جواب دیتا پولیس افسر نے سپاہیوں کو اس کے سامان کی تلاشی لینے کا حکم دے ڈالا۔تلاشی کے دوران اس کے سامان میں سے خون میں لتھڑا ہوا ایک خنجر برآمد ہو تو کوشا پریشان ہو گیا۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے اور خون آلود خنجر اس کے سامان میں کہاں سے آیا؟
تمھیں ہمارے ساتھ پولیس چوکی جانا ہوگا۔پولیس افسر نے سخت لہجے میں کہا۔
مگر کیوں؟ یہ سب کیا ہے؟ میرا جرم کیا ہے؟ کوشا نے ہراساں ہو کر پوچھا۔
’تم خونی ہو، کل رات سرائے کے جس کمرے میں تم ٹھہرے ، اس کے برابر والے کمرے میں مقیم تاجر قتل ہو گیا ہے۔ رات گئے چوں کہ تم اُس کے ساتھ تھے ،اس لیے شُبہ ہے ے کہ یہ قتل تم نے ہی کیا ہے‘‘ پولیس افسر نے جواب دیا۔
کوشا کو پولیس چوکی میں لے جایا گیا۔ اس پر قتل کا مقدمہ چلا ۔کوشا اور اس کی بیوی بے گناہی ثابت کرنے کی بہت کوشش کی ،ثبوت بھی دئیے مگر عدالت نے کوشا کو پچیس سال قید کی سزا سنائی۔ کوشا کو یقین تھا کہ ہمیشہ سچ کی جیت ہوتی ہے اس لیے ایک نہ ایک دن سچائی ضرور لوگوں کے سامنے آئے گی۔دن گزرتے گئے کوشا کو جیل میں بیس برس ہوگئے۔ اس کے خوبصور ت سیاہ بال سفید ہو گئے۔ اس کے چہرے پر بڑھاپے کی خزاں چھاگئیسب اُسے دادا قیدی کہتے تھے۔ایک رات جیل میں نیا قیدی آیا۔ حسب دستور پُرانے قیدیوں نے نئے قیدی سے اس کے جرم کے متعلق پوچھا ۔اُس نے کہا :’’ میں نے ایک بار ایک بڑٖا جرم کیا تھا، لیکن پولیس میرا کچھ نہ بگاڑ سکی۔اس بار میں نے کوئی جُرم نہیں کیا ہھر بھی پولیس نے مجھے جیل میں بھیج دیا ہے۔کوشا بھی نئے قیدی کی باتیں توجہ سے سُن رہا تھا۔
وہ جُرم کیا تھا؟ کوشا نے قیدی سے پوچھا۔
بیس سال پہلے میں نے ایک گائوں میں تاجر کو قتل کر دیا تھا۔ پولیس مجھے اس جرم میں گرفتار نہ کر سکی۔میری بجائے کسی دوسرے تاجر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔قیدی کے جواب پر کوشا چونک اٹھا۔کوشا کو یقین ہو گیا کہ اس پر تھوپے جانے والے جُرم کا اصل ذمہ دار نیا قیدی ہی ہے۔یہ یقین اُس وقت مزید پختہ ہو گیا جب کوشا نے قیدی کو اپنا اور اپنے قصبے کا نام بتایا تو قیدی کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اُس کے چہرے پر بے چینی کے آثار واضح نظر آنے لگے۔کوشا نے قیدی کو مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔
دن گُزرتے گئے ۔ایک رات سیر کے دو ران کوشا نے نئے قیدی کو جیل کی دیوار میں سوراخ کرتے ہوئے دیکھا۔وہ کوشا کو دیکھ کر سہم گیا پھر وہ کوشا کے قریب آیا اور بولا: ’’ تم بھی سوراخ کرنے میں میری مدد کرو ہم دونوں یہاں سے بھا گ جائیں گے۔‘‘ کوشا کو اس طرح جیل سے رہائی حاصل کر نا بالکل اچھا نہ لگا،اس نے انکار میں سر ہلایا اور اپنی بیرک میں آکر سو گیا۔
صبح جب جیلر کو پتا چلا کہ دیوار میں سوراخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو اس نے تمام قیدیوں کو جمع کیا اور پوچھا کہ یہ حرکت کس کی ہے،سب قیدی خاموش تھے۔ دادا قیدی یعنی کوشا بھی خاموش رہا ۔
تم بتائو یہ سوراخ کس نے کیا؟ کون یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر سکتا ہے؟ہمیں تمھاری دیانت داری پر پورا بھروسا ہے،ہمیں یقین ہے تم جھوٹ نہیں بولو گے، جیلر نے کوشا سے پوچھا۔
کوشا کی حق گوئی اور دیانت ساری جیل میں مشہور تھی۔اس نے نئے قیدی کی طرف دیکھا۔اُس کی آنکھوں میں رحم کی درخواست تھی۔ اُ س کی آنکھیں کہہ رہی تھیں خدا کے لیے چُپ رہنا ورنہ میں مارا جائوں گا۔
کوشا کو نئے قیدی پر ترس آگیا۔اُس نے سوچا اگر میں کہہ بھی دوں گا تو میرا کیا فائدہ ہوگا؟ اِس کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔
مجھے نہیں معلوم یہ کام کس کا ہے۔کوشا نے جیلر کو جواب دیا۔
رات جب کوشا اپنی کوٹھڑی میں لیٹا ہوا تھا تو نیا قیدی چُپکے سے اندر داخل ہوا۔’’ دادا! مجھے معاف کر دو۔وہ خون میں نے کیا تھا۔تمھارے سامان میں خنجر بھی میں نے ہی چھپایا تھا۔تم نے میرا راز نہ بتا کر مجھے نئی زندگی بخشی ہے‘‘۔نیا قیدی کوشا کے پائوں سے لپٹ کر رونے لگا۔
تم نے مجھ میں سوئی ہوئی انسانیت جگا دی ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب کبھی بُرائی نہیں کروںگا۔میں ایک اچھا انسان بنوں گا دادا! وہ قیدی بولے چلا جارہا تھا۔
دادا قیدی نے مسکرا تے ہوئے نئے قیدی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سوچنے لگا۔’’میں اگر تباہ ہو گیا تو کیا ہوا؟ میری تباہی سے کسی کی زندگی سنور گئی، ایک انسان حقیقی انسان بن گیا۔میری زندگی بے کار نہیں گئی۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here