افسانے

دیوار کے اُس پار کا سایہ

تحریر: ڈاکٹر اللہ یار ثاقب

ڈاکٹر اللہ یار ثاقبؔ ساہیوال سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچوں کے ادب سے تخلیقی سفر شروع کرنے والے ڈاکٹر اللہ یار ثاقبؔ کی زندگی ادب کی نابغہ روزگار شخصیات کی طرح آزمائشوں کا شکار رہی اور انھوں نے حوصلے سے نہ صرف ان کا مقابلہ کیا بلکہ محنت اور جدوجہد کی ایک لازوال مثال قائم کرتے ہوئے شعرو ادب میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور اُردو ادب میں پی۔ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں مختلف کالجزمیں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے آج کل پاکستان کی ایک بڑی جامعہ 'یونیورسٹی آف سیالکوٹ ' کے شعبہ اردو میں بطوراسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی بہت سی کتابیں ، تحقیقی مقالے اور مضامین و افسانے شائع ہو کر مقبول عام کے درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ زیر نظر افسانہ انھوں نے خصوصی طور پر 'جواں ادب' کے لیے تخلیق کیا ہے
رات کے آخری پہر کی خاموشی میں وہ جاگ اٹھا ۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی ہلچل مگر پھر بھی ایسا لگ رہا تھا جسےکمرے میں کوئی سانس لے رہا ہو۔ گھڑی کی سوئیاں رینگ رہی تھیں۔ہر لمحہ ایک چیخ کی طرح تھا۔ اُس نے سر اٹھایا، اندھیر ے کو دیکھااور محسوس کیا کہ وہ اندھیرے میں نہیں بلکہ کسی اور وجود کی آنکھوں میں ہے۔
ہوا میں عجب سا بوجھ تھا۔ جیسے کسی نے وقت کو روک دیا ہو۔ کمرے کی دیواروں سے ٹھنڈک ٹپک رہی تھی۔ اُس نے اٹھ کر بلب جلانا چاہا مگر سوئچ کو ہاتھ لگاتے ہی جھرجھری سی دوڑ گئی۔ سوئچ نم تھا جسے کسی نے ابھی اسے چھوا ہو۔ بلب نہ جلا مگر کمرے کے کونے میں ایک دھندلا سا سایہ ابھرا ۔غیر واضح مگر سانس لیتا ہوا۔
“کون ہے وہاں؟”
اس نے پکارا مگر آواز خود اسی کے اندر گم ہو گئی۔ جواب میں صرف ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ آئی جو لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی چلی گئی۔ جیسے کسی نے دیوار کے اُس پار سے جواب دیا ہو مگر الفاظ کے بغیر۔
پھر اچانک وہ سایہ حرکت کرنے لگا۔ پہلے آہستہ پھر تیزی سے۔ اُس کے قریب آ کر تھم گیا۔ اُس نے نظریں جمائیں تو یوں لگا جیسے وہ خود اپنے ہی عکس کو دیکھ رہا ہو ،مگر اس عکس کی آنکھیں مختلف تھیں ۔ وہ خالی تھیں جیسے کسی نے ان میں سے زندگی نکال دی ہو۔
“تو کون ہے؟” اُس نے ہمت کر کے پوچھا۔
سایہ مسکرایا مگر اس کے ہونٹ نہیں تھے۔ بس چہرے کی ساخت بدل گئی ایک ان دیکھی ہنسی کی صورت۔
“میں وہ ہوں جس سے تو بچ نہیں سکتا۔”
آواز نہیں تھی مگر وہ جملہ واضح طور پر سنائی دیا جیسے وہ خیا ل کی زبان میں بولا رہا ہو۔
اب وہ پیچھےہٹنا چاہتا تھا مگر فرش کسی دلدل کی طرح چپک گیا تھا۔ سانس لینا دشوار ہو گیا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ کمرہ سکڑ رہا ہے، دیواریں آہستہ آہستہ قریب آ رہی ہیں۔ کمرے کے وسط میں روشی، کی ایک لکیر تھی جو آہستہ آہستہ سیاہپڑتی جا رہی تھی۔
سایہ بولا:”تو ہمیشہ خود سے بھاگتا رہا ہے۔ مگر جہاں بھی گاد میں پہلے سے موجود تھا۔جب تُو ہنستا ہے مں تیر ے پچھے کھڑا ہوتا ہوں۔جب تُو سوتا ہے میں تیرے خوابوں میں چلتا ہوں۔اور جب تُو جاگتا ہے مں تیرے اندر جاگتا ہوں۔”
اب اس کے جسم سے پسنہہ بہہ رہا تھا اس کے باوجود کہ ٹھنڈک بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے دروازے کی طرف دوڑنے کی کوشش کی مگر دروازہ موجود ہی نہیں تھا۔ جہاں دروازہ ہوتا تھا وہاں اب صرف ایک دیوار تھی۔۔۔ ہموار، چمکدار، آئینے کی طرح۔وہ آگے بڑھا۔ آئینے مں اپنا عکس دیکھامگر عکس ہنسنے لگا۔
“تُو مجھ سے ڈرتا ہے؟”
“ہاں… مں؟ ڈرتا ہوں۔”
“مگر کیوں؟ میں تو تُو ہی ہوں۔”
“اگر تُو میں ہے تو میں کون ہوں؟”
سایہ ہنسا۔ آئینے مں لہریں سی اٹھنے لگیں جیسے پانی میں پتھر گرا ہو۔ پھر عکس باہر آیا۔ اب وہ دو تھے، ایک جسم والا اور ایک بےجسم۔ دونوں کے چہرے ایک جیسے مگر آنکھوں مں فرق۔ ایک میں خوف دوسرے میں اطمینان۔
سایہ بولا:”ڈَر کوئی شے نہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جسے تُو چھپاتا ہے۔میں تیرا خوف نہیں تیرا سچ ہوں۔”
وہ چیخنا چاہتا تھا مگر آواز کہیں غائب ہو گئی۔ اس کے ہونٹ ہلے مگر کوئی صدا نہ نکلی۔ دیواریں اب سانس لینے لگیں۔ ہوا کے اندر ایک شور ابھرا جیسے بہت سی دبی ہوئی آوازیں ایک ساتھ کچھ کہنا چاہتی ہوں۔اچانک اس نے خود کو کمرے کے فرش پر پایا۔ بدن پسینے سے تر، سانس بےقابو۔ بلب جل رہا تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔
“یہ خواب تھا؟” اس نے خود سے پوچھامگر جیسے ہی وہ اٹھااس کی نظر دیوار پر پڑی۔ دیوار پر ہلکے حروف میں کچھ لکھا تھا:
“خوف حقیقت کا پہلا دروازہ ہے۔”
اس نے وہ تحریر مٹانے کی کوشش کی مگر الفاظ انگلی لگتے ہی غائب ہو گئے اور اگلے ہی لمحے کمرے میں وہی سرسراہٹ گونجی وہی سانس، وہی غری مرئی موجودگی۔
اب اسے یقین ہو چکا تھا کہ وہ تنہا نہیں مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں وہ خود اپنے ساتھ ہے، اپنے خوف کے ساتھ۔
اس نے آئینےکی طرف دیکھا۔ عکس معمول کے مطابق تھا مگر جب اس نے پلک جھپکی تو عکس نے آنکھ نہیں جھپکی۔
اب ہر رات وہ سوتا نہیں تھا بلکہ جاگتا رہتا تھا ۔اپنے خوف کے ساتھ۔اس نے اپنے اندر کے سائے کو پہچان لا تھا مگر اس سے نجات ممکن نہیں تھی۔کبھی کبھی وہ اپنے اندر سے کسی کی سرگوشی سنتا:
“میں تر ے ساتھ ہوں۔ جب تک تُو خود سے بھاگتا رہے گا میں زندہ رہوں گا۔”
وقت گزرتا گیا۔ دن کی روشنی میں سب کچھ عام لگتا مگر رات ہوتے ہی کمرہ بدل جاتا۔دیواریں سانس لینے لگتیں ، فرش کے نیچے کچھ چلنے کی آوازیں آتیں اور بلب کی روشنی ایک لمحے کے لیے بجھ جاتی۔ پھر دوبارہ جلتی مگر اب اس میں کوئی ہلکی سی لالی ہوتی جیسے کسی نے اسے خون سے چھو لاچ ہو۔
ایک رات اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خوف کا سامنا کرے گا۔ اس نے بلب بند کیا، کمرے کو اندھیرے میں چھوڑ دیا۔ “آجا! سامنے آ” اس نے کہا۔
کچھ لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔ پھر ایک سایہ دیوار سے الگ ہو کر اس کے قریب آیا۔”تو آخر چاہتا کیا ہے؟”
“کچھ نہیں۔ میں بس یاد دلانے آیا ہوں کہ تُو زندہ ہے۔”
“زندگی اور ڈر میں کیا رشتہ ہے؟”
“دونوں ایک دوسرے کے بغر نامکمل ہیں۔”یہ کہہ کر سایہ اس کے اندر تحلیل ہو گیا۔
اُس لمحے اسے لگا جیسے دل کی دھڑکن پہلی بار اپنی اصل آواز میں سنائی دے رہی ہو۔ وہ بیٹھ گیا ، آنکھںہ بند کیں اور محسوس کیا کہ اب وہ خوفزدہ نہیں مگر جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو کمرہ غائب تھا۔اب وہ کسی اور جگہ تھا۔ شاید اپنے ہی ذہن کے اندر۔
ہر سمت آئینے تھے اور ہر آئینے میں وہی سایہ موجود تھا۔سب ایک ساتھ بولنے لگے:
“یہی تیرا اصل جہاں ہے ۔تیر ے اپنے خوف کا کمرہ۔”
اُس نے چیخناچاہا مگر آواز نے خود کو نگل لیا۔ آئینے ٹوٹنے لگے۔ہزاروں عکس،ہزاروں خوف، ہزاروں چہرے۔پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔صبح ہوئی۔ سورج کی کرنوں نے کھڑکی سے جھانکا۔ کمرہ خالی تھا۔ بستر درست حالت میں بلب جل رہا تھا۔بس ایک دیوار پر دھندلا سا جملہ اب بھی لکھا تھا:
“خوف ختم نہں ہوتا وہ صرف شکل بدلتا ہے۔”
اب وہ کہیں نہیں تھا یا شاید ہر جگہ تھا۔ہر اُس شخص کے اندر جو رات کو جاگتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ہر اُس دل میں جو دھڑکنے سے ڈرتا ہے۔اور ہر اُس آنکھ میں جو اپنے ہی عکس سے نظریں چرا لیتا ہے۔
کیو ں کہ ڈر کوئی شے نہیں یہ وہ سایہ ہے جو انسان کی روح کے پیچھے ہمیشہ موجود رہتا ہے۔جب روشنی بڑھتی ہے تو وہ سکڑ جاتا ہے مگر جیسے ہی اندھیرا پھیلتا ہے، وہ پھر اُبھر آتا ہے ۔زندگی کے ساتھ، دل کی دھڑکن کے ساتھ اور انسان کے اندر کے اُس خلا کے ساتھ جہاں سے خوف کی کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button