افسانے

عدد محبت

اُمِ لیلیٰ نقوی کی تازہ تحریر

تحریر: اُمَ لیلیٰ نقوی

ام لیلیٰ نقوی کاتعلق شہر اقبال سیال کوٹ سے ہے۔ وہ معاشرتی اور نفسیاتی موضوعات پر طبع آزمائی کر رہی ہیں۔

خلد کی عادت تھی کہ ہر گفتگو میں فلسفے کا کوئی نہ کوئی حوالہ ضرور لے آتا۔ اس روز بھی محفل حسبِ معمول سجی ہوئی تھی مگر بحث کا موضوع ذرا مختلف تھا۔ بات “جین زی” کے دور کی محبت سے شروع ہوئی اور پھر گھڑی کی سوئیوں کی طرح اپنی مخصوص ردھم میں آگے بڑھتی چلی گئی۔ سگریٹ کے دھوئیں میں الجھی لکیریں فضا میں تحلیل ہو رہی تھیں مگر لفظ اپنے پورے وزن کے ساتھ دلوں پر اتر رہے تھے۔
اسی محفل میں“لالے بنت عباس”خاموش بیٹھی سب کچھ سنتی رہی۔ اس نے نہ کسی دلیل کی تائید کی نہ مخالفت۔ اس کی خاموشی شاید سب سے بڑی گفتگو تھی۔
یکایک اس کے اندر ایک سوال نے جنم لیا۔
کیا محبت؟
کیا محبت واقعی اس نسل کے لیے صرف ایک رجحان، ایک وقتی کیفیت، یا سوشل میڈیا کی چند لمحاتی وابستگیوں کا نام رہ گئی ہے؟ یا پھر محبت وہی ہے جس نے صدیوں سے انسان کو انسان سے اور انسان کو اپنے رب سے جوڑے رکھا ہے؟
اسی دوران زین نے مسکراتے ہوئے کہا:
“جین زی” کے لیے محبت تو فقط ایک فیشن ہے یا Snapchat کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا بہانہ۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد خلد نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور دھیرے سے بولا:
“نہیں۔۔۔محبت تو فقط چار عدد ہیں ؛م، ح، ب، ت
ان چار حروف کی حقیقت اُن سے پوچھو جو لفظوں کے جادوگر ہوتے ہوئے بھی محبت کے ہنر میں خود کو ناتمام پاتے ہیں۔”
یہ جملہ ختم ہوا مگر لالے بنت عباس کے اندر ایک نئی گفتگو شروع ہو چکی تھی۔
محفل برخاست ہوئی۔ لوگ اپنے اپنے راستوں پر چل دیے مگر وہ چار حروف اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
م۔۔۔ ح۔۔۔ ب۔۔۔ت۔۔۔
گھر لوٹتے ہوئے اسے برسوں پہلے پڑھی ہوئی”محبت کے چالیس اصول”یاد آئی۔ پھر مولانا رومی کےافکار ذہن میں اترنے لگے۔ اسے محسوس ہوا کہ محبت کو سمجھنےکےلیےکبھی کبھی فاصلے بھی ضروری ہوتے ہیں کیونکہ بعض قربتیں احترام چھین لیتی ہیں۔
پھر اس کے ذہن نے پاؤلو کوہلوکے ناول الکیمسٹ کا دروازہ کھولا، جہاں”سانٹیاگو”انتظار کو بھی محبت کا ایک روپ سمجھتا ہے۔ اس کے بعد”جان ڈن”یاد آیا جس نے محبت کو ایسی روحانی وابستگی قرار دیا کہ پرکار کی دو ٹانگیں بھی جدائی میں ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں۔
گھر پہنچ کر اس نے سونے کی کوشش کی مگر نیند اس کی آنکھوں سے بہت دور تھی۔
آخر ہم سب اداکار ہی تو ہیں۔دن بھر نہ جانے کتنے کردار نبھاتے ہی۔کہیں مسکراتے ہیں، کہیں ٹوٹتے ہیں، کہیں مضبوط دکھائی دیتے ہیں اور کہیں خاموش رہ کر اپنے اندر کے شور کو چھپا لیتے ہیں۔
اسی بےچینی نے اسے دوبارہ اٹھایا۔
چائے کا ایک دھواں دیتا ہوا کپ، مطالعے کی میز، ایک سفید قرطاس اور ایک خاموش قلم اس کے منتظر تھے۔
اس نے قلم اٹھایا۔
قلم نے جیسے”ملٹن” کی دعا دہرائی کہ روشنی عطا کی جائے۔ پھر دل میں پہلی وحی کی صدا گونجی:
“اقرأ باسم ربك الذي خلق۔”
اسے یوں محسوس ہوا جیسے الفاظ اس کے نہیں کسی اور کی امانت ہوں جو صرف اس کے قلم کے ذریعے صفحے پر اتر رہے ہوں۔
پھر دل میں ایک اور صدا ابھری:
“اور جب میرے بندے میرے بارے میں تم سے پوچھیں تو میں قریب ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔”
اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ محبت صرف انسانوں کے درمیان نہیں، خالق اور مخلوق کے درمیان بھی سب سے مضبوط رشتہ ہے۔ اسی محبت میں کائنات کا حسن پوشیدہ ہے اور اسی محبت میں رحمتِ عالم ﷺ پوری انسانیت کے لیے مبعوث کیے گئے۔
قلم اب رکنے کو تیار نہ تھا۔
اس نے لکھنا شروع کیا:
محبت کسی سے جھک کر ملنے کا نام ہے۔
محبت کسی کی بات پوری توجہ سے سننے کا نام ہے۔
کسی جھاڑو دیتے ہوئے انسان کے لیے دل ہی دل میں آسانی کی دعا کرنا محبت ہے۔
استاد بن کر صرف علم دینا نہیں بلکہ شاگرد کی آنکھوں میں امید روشن کرنا محبت ہے۔
کسی اجنبی بچے پر شفقت بھری نگاہ ڈال دینا محبت ہے۔
جہاں غصہ ہو وہاں مسکرا دینا محبت ہے۔
جہاں انتقام ممکن ہو وہاں درگزر کر دینا محبت ہے۔
کسی بزرگ کو اپنی جگہ دے دینا محبت ہے۔
نابینا کا ہاتھ پکڑنے سے بڑھ کر اس کے دل میں اعتماد پیدا کرنا محبت ہے۔
یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھنا محبت ہے۔
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا محبت ہے۔
اور کسی کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھنا۔۔۔شاید محبت کی سب سے بلند صورت ہے۔
کھڑکی سے آتی ہوئی ہوا نے قرطاس کے اوراق کو آہستہ سے ہلایا جیسے لکھے ہوئے لفظوں کی خاموش تصدیق کر رہی ہو۔ لالے بنت عباس کی نگاہ قلم پر ٹھہر گئی، پھر سفید کاغذ پر۔ یکایک اسے احساس ہوا کہ انسان کا قلم اور قرطاس سے جو رشتہ ہے خدا کو اس سے بھی محبت ہے۔ یہ صرف الفاظ نہ تھے بلکہ اس کے دل پر اترنے والی ایک گواہی تھی۔ اس کے چہرے پر چھائی ہوئی تاریکی روشنی میں ڈھلنے لگی۔ وہ مسکرائی، قلم اٹھایا اور صفحے کے آخری گوشے میں آہستہ آہستہ لکھ دیا
م۔۔۔ح۔۔۔ب۔۔۔ت
پھر انہی چار حروف کے نیچے ایک عنوان ثبت کیا”عددِ محبت”اور یوں اسے محسوس ہوا کہ شاید پوری زندگی انہی چار حروف کی تشریح کا نام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button