افسانے

ریت میں گلاب ——— ڈاکٹر اللہ یار ثاقبؔ

ڈاکٹر اللہ یار ثاقب کا تازہ افسانہ

ڈاکٹر اللہ یار ثاقبؔ ساہیوال سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچوں کے ادب سے تخلیقی سفر شروع کرنے والے ڈاکٹر اللہ یار ثاقبؔ کی زندگی ادب کی نابغہ روزگار شخصیات کی طرح آزمائشوں کا شکار رہی اور انھوں نے حوصلے سے نہ صرف ان کا مقابلہ کیا بلکہ محنت اور جدوجہد کی ایک لازوال مثال قائم کرتے ہوئے شعرو ادب میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور اُردو ادب میں پی۔ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں مختلف کالجزمیں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے آج کل پاکستان کی ایک بڑی جامعہ 'یونیورسٹی آف سیالکوٹ ' کے شعبہ اردو میں بطوراسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی بہت سی کتابیں ، تحقیقی مقالے اور مضامین و افسانے شائع ہو کر مقبول عام کے درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ زیر نظر افسانہ انھوں نے خصوصی طور پر 'جواں ادب' کے لیے تخلیق کیا ہے

جنین کی صبح ہمیشہ دھوئیں میں لپٹی رہتی تھی۔ اذان کی آواز فضا میں گونجتی تو ایسا لگتا جیسے کوئی زخمی پرندہ آسمان کو پکار رہا ہو۔ انھی صبحوں میں سلمیٰ اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی رہتی تھی جہاں کبھی اکرم آ کر سلام کہتا تھا۔ اب وہاں صرف ایک زیتون کا درخت رہ گیا تھا جس کے تنے پر کسی نے چاقو سے لکھ رکھا تھا:
“محبت قید نہیں ہوتی ، قیدی محبت کرتے ہیں۔”
اکرم کو گرفتار ہوئے بیس برس بیت چکے تھے۔ وہ دن اسے آج بھی یاد تھا جب اسرائیلی فوجیوں نے اس کے گھر کی دیواریں گرا دیں، کتابیں زمین پر بکھر گئیں اور اکرم کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی میں ڈال دیا گیا۔
تب سلمیٰ کی عمر محض انیس برس تھی۔اس نے اکرم کے جاتے وقت صرف اتنا کہا تھا!
“واپس آنا ،میں وقت کو روک دوں گی۔”
وقت مگر رکتا نہیں۔
بمباری ہوتی رہی شہر کے بچے لاشوں کے درمیان کھیلتے رہے اور سلمیٰ ہر سال کی عید پر اکرم کے لیے سفید کپڑے تیار کرتی رہی۔اس کی ماں اکثر کہتی!
“بیٹی! وہ شاید اب زندہ نہیں۔”
سلمیٰ جواب دیتی!!!
“اگر وہ مر گیا ہوتا، میرا دل کیوں دھڑکتا؟”
اکرم جیل کی کوٹھڑی میں ہر رات وہی خواب دیکھتا ، سلمیٰ کھڑکی کے پاس کھڑی ہے زیتون کے درخت کے نیچے۔مگر جب وہ جاگتا تو سامنے صرف پتھر کی دیوار ہوتی۔ اس نے جیل میں کاغذ کے ٹکڑوں پر نظمیں لکھنا شروع کر دی تھیں جنھیں وہ چوری چھپے دوسرے قیدیوں کے ذریعے باہر بھجواتا۔ ان نظموں میں نہ صرف محبت بلکہ فلسطین کا دکھ بولتا تھا۔ایک نظم کا مصرع مشہور ہوا:
“جو قید میں ہے وہ آزاد ہے جو آزاد ہے وہ قید میں جیتا ہے۔”
سال گزرتے گئے۔ اکرم کے بال سفید ہو گئے مگر آنکھوں میں وہی چمک باقی رہی۔ ایک دن جیلر نے آ کر کہا:
“تمہارا نام قیدیوں کے تبادلے میں شامل ہو گیا ہے۔”
اکرم کے دل میں کوئی دھڑکن جیسے پھوٹ پڑی۔ اس نے سوچا، “کیا سلمیٰ اب بھی میرا انتظار کر رہی ہوگی؟”
جب وہ رہا ہوا تو جنین کے راستے بدل چکے تھے۔ پہلے جہاں بازار ہوا کرتے تھے وہاں اب ملبہ تھا۔ زیتون کے درخت کے نیچے سلمیٰ کھڑی تھی، چادر میں لپٹی جیسے وقت نے اسے محفوظ رکھا ہو۔ اکرم رکا لیکن کچھ کہہ نہ سکا۔ صرف ایک آنسو جو بیس سال کی قید سے چھوٹ کر باہر آیا، سلمیٰ کے ہاتھ پر گرا۔
اس نے دھیرے سے کہا:
“میں نے کہا تھا نا وقت کو روک دوں گی۔”
جنین کی مسجد میں نکاح ہوا۔ آوازِ مؤذن میں لرزش تھی جیسے وہ خود بھی اس لمحے کی شدت برداشت نہ کر پا رہا ہو۔ اکرم نے سلمیٰ کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
“میں نے جیل میں ہر دن تمہیں یاد ۔۔”
سلمیٰ نے مسکرا کر جواب دیا!
“میں نے ہر دن تمہیں مانگا جیسے خدا سے دعا مانگی جاتی ہے۔”
شہر کے لوگ رو رہے تھے۔کسی نے کہا،”یہ نکاح نہیں یہ فلسطین کی جیت ہے۔” اکرم نے سلمیٰ کی طرف دیکھا۔۔۔
جیت؟؟؟
نہیں، یہ صرف امید کی بقا ہے۔”
رات کو جب دونوں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے تھے ،باہر اسرائیلی گشتی گاڑیوں کی روشنی ان کی کھڑکی پر پڑ رہی تھی۔اکرم نے کہا:
“مجھے جیل کی ہوا میں تمہاری خوشبو آتی تھی۔کبھی سوچا نہیں تھا کہ قید ختم ہو جائے گی۔”
سلمیٰ نے جواب دیا:”میں نے سوچ لیا تھا کہ قید ختم ہو یا نہ ہو محبت قید سے بڑی ہوتی ہے۔”
دور کہیں سے توپوں کی آواز آئی۔ جنین کا آسمان دوبارہ زخمی ہو گیا۔ اکرم نے سلمیٰ کا ہاتھ تھاما؛ “یہ شہر کبھی سکون نہیں پائے گا۔”
سلمیٰ نے دھیرے سے کہا!
“سکون؟ شاید وہ شہیدوں کے پہلو میں دفن ہو چکا ہے مگر محبت زندہ ہے۔”
چند دن بعد اسرائیلی ڈرون نے ایک گھر پر حملہ کیا ، وہی گلی وہی زیتون کا درخت۔لوگ دوڑے، ملبہ ہٹایا۔ درخت کے نیچے ایک جوڑا زخمی حالت میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے پڑا تھا۔ سلمیٰ نے آخری سانسوں میں کہا!
“اکرم! ہم قید سے نکل آئے ہیں نا؟”
اکرم نے مسکرا کر کہا:
“ہاں! اب کوئی جیل نہیں کوئی دیوار نہیں۔ صرف ہم ہیں اور ہمارا وطن۔”
دھوئیں میں لپٹی وہ گلی خاموش ہو گئی۔ زیتون کا درخت جل گیا مگر اس کے تنے پر وہی لکھا ہوا تھا:
“محبت قید نہیں ہوتی ۔۔۔ قیدی محبت کرتے ہیں۔”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button