
![]() | ام لیلیٰ نقوی کاتعلق شہر اقبال سیال کوٹ سے ہے۔ وہ معاشرتی اور نفسیاتی موضوعات پر طبع آزمائی کر رہی ہیں۔ |
|---|
مگر اسے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی خوبی بھی دوسروں کے لیے اس کی سب سے بڑی شکایت بن جاتی ہے۔
اسی ادارے میں ایک یتیم بچہ بھی کام کرتا تھا۔اس کی ماں زندہ تھی، مگر دوسرے شہر میں رہتی تھی اور اپنے بیٹے کے لیے محنت کرتی تھی۔ حالات نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر رکھا تھا۔بچہ کم عمری میں ہی کام کرنے لگا تھا۔دن بھر وہ کبھی پانی لاتا، کبھی سامان اٹھاتا، کبھی فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا اور کبھی کسی کے بلانے پر دوڑتا ہوا آ جاتا۔وہ زیادہ سوال نہیں کرتا تھا۔شاید حالات نے اسے جلدی خاموش ہونا سکھا دیا تھا۔
اس بچے کو دیکھ کر کبھی کبھی اسے چارلس ڈکنز کا ناول Oliver Twist یاد آ جاتا۔ وہی Oliver جس کی زندگی میں بچپن، بھوک، محرومی اور محنت ایک دوسرے میں گندھے ہوئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں سامنے ایک ناول کا کردار نہیں، ایک حقیقی بچہ تھا؛ ایک ایسا بچہ جو اپنے حصے کے بچپن سے بہت پہلے روزگار اور ذمہ داری کی دنیا میں داخل ہو چکا تھا۔وہ سوچتی کہ بچوں سے محنت لینا صرف ان کے ہاتھوں کو تھکانا نہیں، کبھی کبھی ان کے خوابوں کو بھی وقت سے پہلے بوڑھا کر دینا ہوتا ہے۔
اس کے دل میں یہ سوال بھی اٹھتا کہ اگر کسی بچے کے حالات اسے کام کرنے پر مجبور کر دیں تو کیا معاشرے کی ذمہ داری صرف اسے کام کرتے دیکھنا ہے، یا اس کے ہاتھ میں کتاب، اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اس کے مستقبل میں امید رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے؟
وہ عورت اسے اکثر دیکھتی۔اسے معلوم تھا کہ ایک بچے کے چہرے پر تھکن صرف جسمانی نہیں ہوتی۔
اس لیے کبھی وہ پوچھ لیتی: “کھانا کھایا؟” کبھی کہتی: “اتنا کام مت کرو، کچھ دیر بیٹھ جاؤ۔” کبھی اس کی پڑھائی کا پوچھتی، کبھی ماں کا حال۔
ہفتے میں دو تین مرتبہ کیفیٹیریا میں کھانا بھی اکٹھا ہو جاتا۔وہ اس کے ساتھ اسی طرح پیش آتی جیسے کسی انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
نہ اس میں کوئی خاص بات تھی، نہ کوئی راز۔صرف ہمدردی تھی۔ صرف انسانیت۔ایک دن وہ عورت گھر سے کھانا بنا کر لائی۔کھانا معمول سے کچھ زیادہ اچھا بنا تھا۔اس نے بچے کو بلایا اور کہا: “آؤ، آج یہ میرے ساتھ کھا لو۔”بچہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔وہ بہت خوش تھا۔
شاید اس لیے کہ کسی نے اس کے لیے کھانا صرف ضرورت سمجھ کر نہیں، محبت سے بنایا تھا۔وہ عورت اسے کھاتے دیکھتی رہی۔اسے معلوم تھا کہ بعض اوقات انسان کو پیٹ سے زیادہ دل بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی چھوٹا سا واقعہ کسی کی زبان پر ایک بڑی کہانی بن جائے گا۔کچھ دن بعد وہ بچہ ایک چھوٹا سا پیکٹ ہاتھ میں لیے خوشی خوشی اس کے پاس آیا۔آنکھوں میں چمک تھی۔وہ تقریباً دوڑتا ہوا آیا اور بولا: “باجی! آپی! دیکھیں، کسی نے مجھے کپڑے دیے ہیں!”
اس نے پیکٹ کھولا۔سادہ سے کپڑے تھے۔مگر بچے کے لیے وہ کسی خزانے سے کم نہیں تھے۔وہ انہیں بار بار دیکھ رہا تھا۔
پھر بولا: “میں یہ پہن کر جاؤں گا۔”وہ عورت مسکرا دی۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا اطمینان اترا۔
کسی نے ایک ضرورت مند بچے کو کپڑے دے دیے تھے اور اس بچے کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔
وہ سوچنے لگی:
ہم اکثر نعمتوں کو ان کی قیمت سے ناپتے ہیں، حالانکہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اس کے لیے ایک معمولی چیز بھی پوری دنیا بن سکتی ہے۔
پھر اس بچے کی پڑھائی کا ذکر آیا۔
وہ کام بھی کرتا تھا اور پڑھنے کی کوشش بھی۔
اسے پڑھائی میں مدد کی ضرورت ہوتی تو ادارے کے کچھ اساتذہ اس کی مدد کر دیتے۔
کبھی کوئی سبق سمجھا دیتا، کبھی کتاب دے دیتا، کبھی اسے حوصلہ دیتا۔
وہ عورت بھی اسے ہمیشہ یہی کہتی: “کام ضروری ہے، لیکن پڑھائی مت چھوڑنا۔”
بچے نے شاید اس ایک جملے کو دل میں رکھ لیا تھا۔
وہ کام کے بعد پڑھتا۔تھکتا، پھر بھی پڑھتا۔اور پھر ایک دن اس کا میٹرک کا نتیجہ آ گیا۔وہ ایک پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے امتحان دے رہا تھا۔
اس کے پاس مٹھائی کے پیسے نہیں تھے۔اس نے اپنے ایک دوست سے پیسے ادھار لیے اور ہنستے ہوئے کہا: “میری سیلری آئے گی تو میں تمہیں پیسے واپس کر دوں گا۔”
پھر وہ مٹھائی کا ڈبہ لیے تقریباً بھاگتا ہوا ادارے میں داخل ہوا۔
سب سے پہلے وہ اپنے اساتذہ کے پاس گیا۔وہی اساتذہ جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا، جنہوں نے اس کی پڑھائی میں مدد کی تھی، جنہوں نے اسے صرف ایک کام کرنے والے بچے کے طور پر نہیں دیکھا تھا، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا تھا جس کا مستقبل بھی ہے۔وہ مٹھائی کا ڈبہ آگے کرتے ہوئے بولا: “آپ لوگوں نے مشکل وقت میں میری مدد کی تھی۔ اگر آپ میرا ساتھ نہ دیتے تو شاید میں یہاں تک نہ پہنچتا۔”اس کی آواز بھرّا گئی۔
آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔وہ ایک ایک استاد کے پاس جا رہا تھا، مٹھائی دے رہا تھا، شکریہ ادا کر رہا تھا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ عورت ایک طرف کھڑی اسے دیکھ رہی تھی اور اچانک اس کی اپنی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔اسے اپنا گھر یاد آیا۔اپنے والدین یاد آئے۔اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
والدین واقعی کتنی بڑی نعمت ہیں۔اس نے سوچا، انسان کی کامیابی کبھی صرف اس کی اپنی نہیں ہوتی۔اس کے پیچھے کسی ماں کی دعا ہوتی ہے، کسی باپ کی محنت ہوتی ہے، کسی استاد کا ہاتھ ہوتا ہے، کسی ایسے شخص کا حوصلہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں یہ کہہ دے:
“تم کر سکتے ہو۔”
اور شاید اسی لیے ہر کامیابی پر سب سے پہلے اللہ کا شکر اور پھر ان لوگوں کا اعتراف ہونا چاہیے جنہوں نے ہمیں وہاں تک پہنچنے میں مدد دی۔
اس بچے کی خوشی دیکھ کر اسے ایک اور بات سمجھ آئی۔
کسی غریب کو اچھا کھانا مل جائے تو اسے حیرت سے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
کسی یتیم کو اچھے کپڑے مل جائیں تو یہ سوال کرنے کی ضرورت نہیں کہ “اسے کیوں ملے؟”
کسی کم حیثیت سمجھے جانے والے انسان کو کامیابی مل جائے تو اس کی خوشی کم کرنے کی ضرورت نہیں۔
رزق بانٹنے سے کم نہیں ہوتا۔
نعمت کسی دوسرے کے پاس دیکھ کر ہماری نعمت چھن نہیں جاتی۔
پھر حسد کیوں؟ شکر کیوں نہیں؟ دعا کیوں نہیں؟
انسان یہ کیوں نہیں کہتا:
“یا اللہ! جسے تو نے دیا ہے، اس میں برکت دے اور مجھے بھی اپنے فضل سے عطا فرما۔”
مگر شاید یہی وہ مقام تھا جہاں سے کہانی نے ایک تلخ موڑ لیا۔
جس ہمدردی کو وہ عورت انسانیت سمجھتی تھی، کچھ لوگوں نے اسے اپنے گمان کا نام دے دیا۔
پہلے سرگوشیاں ہوئیں، پھر اشارے، پھر باتیں اور پھر وہی باتیں الزام بن گئیں۔
ایک بچے کے ساتھ کھانا کھانا، اس کی پڑھائی پوچھنا، اس کے لیے کھانا لے آنا، اس کی خوشی میں خوش ہونا—ان سب کو لوگوں نے اپنی سوچ کے رنگ میں رنگ دیا۔
وہ عورت خاموش رہ گئی۔
اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بعض معاشروں میں انسان کی نیت سے زیادہ لوگوں کو اپنی بنائی ہوئی کہانی پر یقین ہوتا ہے۔
اس نے سوچا:”کیا ایک یتیم بچے کے ساتھ ہمدردی کی بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟”
کیا کسی کمزور انسان کے لیے نرم ہونا بھی قابلِ الزام ہو سکتا ہے؟
کیا ایک عورت اگر کسی بچے کی مدد کرے تو اسے اپنے کردار کی وضاحت دینا پڑے گی؟
پھر اسے ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک مرد نے اس سے ایک ایسی بات کہی تھی جسے وہ مناسب نہیں سمجھتی تھی۔اس نے شائستگی سے انکار کر دیا تھا۔بس ایک سادہ سا انکار۔نہ بدتمیزی، نہ توہین۔
صرف اتنا کہ:”یہ مناسب نہیں۔”
مگر شاید کچھ لوگ عورت کے انکار کو قبول کرنا نہیں جانتے۔
اور جب جواب میں “نہیں” ملے تو کبھی کبھی الفاظ بدل جاتے ہیں، لہجے بدل جاتے ہیں اور پھر کسی عورت کے کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔اسے تب سمجھ آیا کہ مسئلہ صرف اس بچے کا نہیں تھا۔مسئلہ اس ذہنیت کا تھا جو عورت کے انکار کو برداشت نہیں کرتی۔
وہ چاہتی تو عورت کارڈ کھیل سکتی تھی۔شور مچا سکتی تھی۔اپنے گرد ہمدردی جمع کر سکتی تھی۔ہر شخص کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کر سکتی تھی۔مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
اس نے صرف اپنے دل میں کہا:”اللہ جانتا ہے۔”
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے دکھ نہیں ہوا۔
وہ مضبوط تھی، بے حس نہیں۔کبھی اسے غصہ آتا، کبھی دل دکھتا، کبھی وہ سوچتی کہ آخر کسی انسان کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ بغیر ثبوت دوسرے کے کردار پر سوال اٹھائے؟
مگر پھر وہ خود کو سنبھال لیتی۔اسے معلوم تھا کہ کچھ فیصلے وقت کرتا ہے اور کچھ کا فیصلہ اللہ کے ہاں ہوتا ہے۔
ایک رات اس نے قرآن کھولا۔سورۃ النور کی آیت سامنے تھی:
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ :سورۃ النور: 23
پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
اس نے قرآن بند نہیں کیا۔سورۃ الحجرات کی وہ ہدایت بھی سامنے تھی:
“بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔”سورۃ الحجرات: 12
وہ سوچتی رہی:ہم نے گمان کو خبر بنا دیا۔ خبر کو یقین۔ اور یقین کو فیصلہ۔
صرف اس لیے کہ کسی نے کچھ کہہ دیا تھا۔
پھر اسے سورۃ النساء میں یتیموں کے حقوق کے بارے میں دی گئی تاکید یاد آئی۔
اسے وہ بچہ یاد آیا۔وہ بچہ جس نے دن بھر کام کیا، پھر پڑھا، پھر امتحان دیا اور آخرکار اپنے اساتذہ کے سامنے اپنی کامیابی لے کر پہنچا۔
اس نے سوچا:یتیم ہونا کسی انسان کو کمتر نہیں بناتا۔غریب ہونا کسی کو کمتر نہیں بناتا۔اور کسی انسان کی مالی حالت اسے دوسرے انسان سے کم قدر نہیں بنا دیتی۔
قرآن کہتا ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (“بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”)سورۃ الحجرات: 13
پھر اسے محسوس ہوا کہ شاید اصل بیماری غربت نہیں۔اصل بیماری وہ نظر ہے جو انسان کو اس کی حیثیت سے دیکھتی ہے، انسانیت سے نہیں۔اور پھر حسد۔حضرت علیؑ سے منسوب ایک قول اس کے ذہن میں آیا:
“حاسد کے لیے یہی کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ غمگین ہوتا ہے۔”حسد انسان کو دوسروں کی نعمت سے زیادہ اپنی محرومی دکھاتا ہے۔کسی کے اچھے کپڑے اسے پریشان کرتے ہیں۔کسی کا اچھا کھانا اسے کھٹکتا ہے۔کسی کی کامیابی اسے اپنی شکست لگتی ہے۔حالانکہ اللہ کا خزانہ وسیع ہے۔دوسرے کو ملنے والی نعمت ہماری نعمت کم نہیں کرتی۔پھر ہم دعا کیوں نہیں کرتے؟شکر کیوں نہیں کرتے؟نعمت چھیننے کے بجائے نعمت مانگنے کی عادت کیوں نہیں بناتے؟
حدیث میں حسد کے بارے میں یہ مفہوم بیان ہوا ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔تو پھر انسان اپنے دل کو حسد سے کیوں بھرے؟
وہ کسی دوسرے کے لیے دعا کیوں نہ کرے؟”یا اللہ! اسے بھی خوش رکھ، اور میرے لیے بھی اپنے فضل کے دروازے کھول۔”اس عورت کو نبی کریم ﷺ کے حسنِ سلوک کا ایک مشہور واقعہ یاد آیا۔
ایک عورت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آپ ﷺ کے راستے میں تکلیف دہ چیزیں پھینکا کرتی تھی۔ ایک دن جب وہ نظر نہ آئی تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں دریافت کیا اور اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔وہ سوچتی رہی:ہم اسی نبی ﷺ کی امت ہیں۔
وہ نبی جنہوں نے بدسلوکی کا جواب بدسلوکی سے نہیں دیا۔جنہوں نے رحم، عدل، عفو اور حسنِ اخلاق کو معاشرتی زندگی کا حصہ بنایا۔تو پھر ہم عملی زندگی میں اتنے پیچھے کیوں رہ گئے؟ہمیں صرف تعلیم کی ضرورت نہیں۔صرف ڈگریوں کے انبار کافی نہیں۔صرف بڑی بڑی تقریریں، سیمینار اور روحانی محفلیں کافی نہیں۔
اگر علم ہمارے رویے نہیں بدلتا تو وہ ابھی ہمارے اندر اترا ہی نہیں۔ہم قرآن پڑھتے ہیں، مگر زبان کی حفاظت نہیں کرتے۔ہم حدیث پڑھتے ہیں، مگر سنی سنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ہم اپنے لیے عزت چاہتے ہیں، مگر دوسروں کی عزت کو اپنے الفاظ سے مجروح کر دیتے ہیں۔ہم اپنے لیے انصاف چاہتے ہیں، مگر دوسرے کے خلاف فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے۔ہم اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کسی دوسرے کے بچے کی کامیابی دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔ہم رزق اللہ سے مانگتے ہیں، مگر کسی دوسرے کے رزق کو دیکھ کر دل تنگ کر لیتے ہیں۔شاید مسئلہ قرآن کی کمی نہیں۔مسئلہ قرآن کو زندگی میں اتارنے کی کمی ہے۔اس عورت نے اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کیا۔
مگر اس واقعے نے اس کے اندر ایک سوال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا:کیا کسی ادارے میں کام کرنے والی عورت اتنی غیر محفوظ ہونی چاہیے کہ کوئی بھی شخص بغیر ثبوت اس کے کردار پر سوال اٹھا دے؟کیا کسی مرد کے انکار کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ کسی عورت کی کردارکشی ہونا چاہیے؟
کیا کسی یتیم بچے کے ساتھ شفقت بھی شک کی نگاہ سے دیکھی جائے گی؟کیا اداروں میں ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جہاں الزام سے پہلے ثبوت مانگا جائے؟جہاں شکایت کی باقاعدہ تحقیق ہو؟جہاں افواہ کو فیصلہ نہ بننے دیا جائے؟جہاں عورت، مرد، بچہ، استاد اور کارکن، ہر انسان کی عزت محفوظ ہو؟اور جہاں ذہنی اذیت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے؟وہ عورت چاہتی تو اپنے لیے بہت کچھ کر سکتی تھی۔
مگر اس نے ایک بات سیکھ لی تھی:”اپنی عزت ثابت کرنے کے لیے ہر الزام کا جواب دینا ضروری نہیں۔”
کبھی انسان کا کردار اس کی صفائی سے زیادہ بلند آواز میں بولتا ہے۔اس نے کام جاری رکھا۔بچوں کی تربیت جاری رکھی۔اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی۔اور اس بچے کے لیے بھی وہی دعا کرتی رہی جس کی وجہ سے اس کے بارے میں باتیں بنائی گئی تھیں۔کیونکہ اگر وہ بھی نفرت کا جواب نفرت سے دیتی تو فرق کیا رہ جاتا؟
کاش ہمارے اسلامی معاشرے میں کچھ چیزیں واقعی درست ہو جائیں۔کاش ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنا سیکھیں۔کاش ہم کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی زبان کا حساب کریں۔کاش ہم کسی کی کامیابی سے پریشان ہونے کے بجائے اس کے لیے دعا کرنا سیکھیں۔کاش ہم یتیم، غریب اور کمزور انسان کو اپنی نظر میں کم تر نہ سمجھیں۔کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ حقوق العباد صرف ماں، باپ، بہن، بھائی اور قریبی رشتوں تک محدود نہیں۔جب انسان معاشرے میں نکلتا ہے تو اس کے راستے میں بے شمار انسان آتے ہیں۔ان کے حقوق بھی ہیں۔ان کی عزت بھی ہے۔ان کے جذبات بھی ہیں۔اور ان کے دل بھی ہیں۔
وہ عورت کبھی کبھی سوچتی:اگر ہم سب اپنے آپ کو تھوڑا سا بہتر کرنے کی کوشش کریں تو شاید معاشرہ خود بخود بہتر ہونے لگے۔
اگر ایک شخص افواہ آگے نہ بڑھائے، ایک شخص بغیر ثبوت الزام پر یقین نہ کرے، ایک شخص کسی یتیم بچے کو عزت دے، ایک شخص کسی غریب کی خوشی سے خوش ہو، ایک شخص کسی عورت کے شائستہ انکار کو قبول کر لے، ایک شخص حسد کے بجائے دعا کر دے، تو شاید بہت کچھ بدل سکتا ہے۔وہ دن بھی آیا جب اسے اپنے اندر ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔اس نے جان لیا تھا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔کچھ باتوں کا جواب وقت دیتا ہے۔کچھ کا کردار۔اور کچھ کا انصاف صرف اللہ کے پاس ہے۔
اس نے اپنے دل میں بس اتنا کہا:
“یا اللہ، مجھے دوسروں کی آزمائش نہ بنا اور دوسروں کو میری آزمائش نہ بنا۔ مجھے ایسا انسان بنا جو کسی کے دل پر بوجھ نہ بنے۔”
پھر اس نے اپنے معمول کی طرح اگلے دن بھی ادارے کا دروازہ کھولا۔بچے اندر آ رہے تھے۔کلاسز شروع ہونے والی تھیں۔زندگی اپنے معمول پر واپس آ رہی تھی۔
مگر اس کے اندر ایک دعا ہمیشہ کے لیے جاگ چکی تھی:کسی کے بارے میں سنی ہوئی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے، ایک لمحے کے لیے رک جاؤ۔
کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے، اپنے دل سے پوچھو۔کسی کی نعمت دیکھ کر جلنے سے پہلے، اپنے رب سے مانگو۔کسی کمزور انسان کو دیکھ کر اسے کمتر سمجھنے کے بجائے، اس کا سہارا بنو۔اور اگر کبھی کسی انسان کی زندگی تمہیں بہت مختلف دکھائی دے تو فیصلہ سنانے سے پہلے یہ یاد رکھو:تم نے اس کی پوری زندگی نہیں دیکھی۔
تم نے صرف ایک لمحہ دیکھا ہے۔اور ایک لمحہ کبھی بھی پوری حقیقت نہیں ہوتا۔شاید یہی وہ سبق تھا جو اس عورت نے اپنے زخم سے سیکھا تھا۔کہ انسان کو دوسروں کی زندگیوں پر فیصلے لکھنے سے پہلے اپنے دل کے صفحات پڑھ لینے چاہییں۔کیونکہ کبھی کبھی ہم جس شخص پر الزام لکھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل اپنی پوری زندگی اللہ کے سامنے سچائی سے لکھ رہا ہوتا ہے۔اور آخر میں فیصلہ وہیں ہونا ہے۔اللہ کے ہاں۔




