شناخت ——— محمد ندیم اختر

0
237

گارمنٹس فیکٹری سے بنگالی کیمپ کا راستہ صرف دو کلومیٹر ہو گا۔ گارمنٹس فیکٹری کی پہلی شفٹ تین بجے ختم ہوتی تو نذرالسلام تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ، راستے میں لگی دکانوں پر کھڑے دکان داروں کو سلام کرتا گھر پہنچ جاتا تھا ۔ یہ دو کلومیٹر کا راستہ اسے کبھی طویل نہیں لگا تھا ۔ بچپن سے لے کر جوانی اور پھر لڑکپن کا زمانہ اس پر بیت رہا تھا ، اس فیکٹری میں پہلی بار اپنے باپ کے مجیب السلام کے ساتھ بچپن میں داخل ہوا تھا اور اس فیکٹری میں کام ملنے کے کوئی دو سال بعد ہی اس کا باپ اسے داغ مفارقت دے گیا ۔ اس کا باپ مجیب السلام اس فیکٹر ی کے شعبہ پیکنگ میں فورمین تھا ، تو فیکٹری کے مالکان نے باپ کی جگہ نذرالسلام کو اس شعبے کا فورمین بنا دیا ، یہ انہو ں نے اس کے باپ کی خدمت کا صلہ دیا تھا جواس کے باپ نے زندگی کے قیمتی پندرہ سال اس فیکٹری کو دیے تھے ۔ نذرالسلام بھی اپنے باپ کی طرح چھوٹے قد اور سانولے رنگ میں اپنے باپ کے مشابہہ ہی نظر آتا تھا ۔ اس نے نہ صرف قد اور رنگ اپنے باپ کا چرایا تھا بلکہ اس نے اپنے باپ کی عادتیں بھی چرا لی تھیں ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ فیکٹری سے گھرتک دکان دار مجیب السلام کے بیٹے نذرالسلام کو بڑی اپنائیت سے دیکھتے اور اس کے پرخلوص سلام کا جواب دیتے ، یہ اس کا معمول تھا ۔ لیکن اس دن معمول سے ہٹ کر اس کے لیے دو کلو میٹر کا راستہ کئی سو کلو میٹر پر محیط تھا ، راستے میں دکان داروں کو دیکھے بنا غمزدہ چہرہ جھکائے نذرالسلام اپنے گھر کی جانب چلا جارہا تھا ، اس کے پیروں میں موجود قینچی چپل کی چٹاک چٹاک کی آواز دکان داروں کو اس کی طرف متوجہ کر رہی تھی لیکن وہ کسی پر توجہ نہیں دے رہا تھا ۔ دوکان دار بھی وقت سے پہلے نذرالسلام کو گھر جاتے دیکھ کر حیران تھے کہ آج نذرالاسلام وقت سے پہلے غمزدہ چہرہ لیے گھر کی جانب کیوں جا رہا ہے ۔
نذرلاسلام کا غمزدہ بننا بنتا تھا کیونکہ کراچی کے حالات بہت دنوں سے خراب تھے ، آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کراچی کے شہریوں سمیت پورے ملک میں خوف کی لہر تھی جو دن بدن کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی تھی ۔ کراچی کے باقی علاقوں میں تو آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ سننے کو ملتا رہتا تھا لیکن اس دن تو ٹارگٹ کلر لانڈھی کی اس گارمنٹس فیکٹری تک بھی آن پہنچے تھے ۔ صبح دس بجے کے قریب فیکٹری مالک کے بھائی نوریز رضوانی اس وقت ٹارگٹ کلر کے نشانے پر آیا جب وہ معمول کے مطابق فیکٹری کا وزٹ کرنے فیکٹری کے گیٹ پر پہنچا تھا ، ابھی اس نے اپنی گاڑی فیکٹری کے گیٹ سے اندر داخل کرنا تھی کہ دو موٹرسائیکل سواروں نے نوریز رضوانی کا راستہ روکا اور فائرنگ کر دی ۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ نوریز رضوانی کو سنبھلنے کا موقع ہی ملا اور پستول کی گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین توڑتی ہوئی سیدھی نوریز رضوانی کے سینے اور کھوپڑی کے آرپا ہوگئی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔اسی دوران جب نوریز رضوانی کی گاڑی گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی تو نذلاسلام فیکٹری کے باہر موجود پان کی دکان سے معمول کا پان لے کر فیکٹری میں داخل ہونا ہی چاہتا تھا جب یہ وقوعہ ہو گیا ۔ اس نے جہاں یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہاں اس نے موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو بھی دیکھا ۔ فائرنگ کرنے والا نوجوان کچھ جانا پہنچانا سا لگا لیکن اسے یاد نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ اس قاتل لڑکے سے کہاں مل چکا ہے ۔
نوریز رضوانی کی موت فیکٹری مالک قدیر رضوانی سمیت اس کے اہل خانہ پر ایک قیامت تھی جو آئی اور گزر گئی ۔ مختلف چہ مگوئیوں سے پتہ چلا کہ کراچی کے باقی سرمایہ داروں کی طرح قدیررضوانی کو بھی بھتے کی چٹ موصول ہوئی تھی لیکن انہوں نے اپنے بڑے بھائی جو کہ کراچی کے ایک علاقے کے محکمہ پولیس میں ایس پی کے عہدے پر فائز تھے ان کے کہنے پر بھتہ دینے سے انکار کر دیا بلکہ بھتے کی چٹ کو معمولی چٹ سمجھ کر کہیں پھینک دیا تھا ۔ بھتہ نہ ملنے پر بھتہ خوروں نے قدیر رضوانی کو خطرناک عزائم سے آگاہ کیا تھا ۔ اب کیا ہونا تھا مرنے والا مرگیا ۔ مارنے والے اپنے اگلے مشن پر روانہ ہو چکے تھے ۔ اگلے دن کے اخبارات میں معمول کی خبروں میں ایک نوریز رضوانی کی ٹارگٹ کلنگ کی خبر بھی موجود تھی ۔

٭٭٭

نوریز رضوانی کی ناگہانی موت کے سوگ میں تین دن فیکٹری بند رہی تھی ۔ اس کے بعد وہ معمول کے مطابق فیکٹری چلا دی گئی ۔ فیکٹری کا سارا نظام معمول کے مطابق چلنے لگا ۔ اس کی تین شفٹیں ویسے ہی کام کرنے لگیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ لیکن نذلاسلام کا معمول بدل چکا تھا ۔ وہ اپنے وقت پر فیکٹری تو آتا تھا لیکن واپسی پر فیکٹری سے بنگالی کیمپ جانے کی بجائے اس کا رخ اعوان آبا دکی جانب ہوتا ۔ اعوان آبا د اس کے لیے نئی جگہ نہیں تھی شادی سے پہلے اس کا معمول تھا کہ وہ فیکٹری سے چھٹی کے بعد سیدھا اعوان آباد کے سنوکر کلب پر جاتا اور وہاں سنوکر کھیلتا اور سنوکر کھیلنے والے بہت سے لڑکے اس کے دوست بن گئے تھے جن سے رات گئے تک گپیں ہانکتا ، پان کھاتا اور بیڑی پیتا تھا ۔ لیکن شادی کے بعد اس کے معمول میں غیر معمولی طور پر تبدیلی آئی تھی ۔ چھوٹی عمر میں شادی بھی اس کی اسی عادت کی وجہ سے جلد کر دی گئی تھی کہ گھر والی آجائے گی تو وہ خود ہی اسے سیدھی راہ پر لے آئے گی اور فیکٹری سے سیدھا سنوکر کلب جانے کی بجائے گھر آیا کرے گا۔ گھر والوں کا یہ کلیہ کارگر ثابت ہوا تھا ۔ بہت عرصے بعد نذلاسلام جب شام کے بعد گھر پہنچا تو ماں اور بیوی کا پریشان چہرہ دیکھ کر خاموشی سے صحن کی نکڑ میں لگی پانی والی ٹونٹی کی جانب بڑھ گیا ۔
’’نذر خیریت تھی جو آج اتنی دیر سے گھر آئے ہو ۔ ‘‘ماں نے خاموشی توڑی ۔
’’جی اماں !اسے ہی ڈھونڈنے گیا تھا ۔ ‘‘ نذرلاسلام نے دھیرے سے جواب دیا ۔
’’ہائے میرے اللہ …ہم نے منع بھی کیا تھا کہ ہمیں اس قاتل سے کچھ نہیں لینا دینا لیکن پھر بھی ۔…‘‘ماں دھاڑ ی۔ نذلاسلام کی بیوی کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے ۔ وہ صرف آنسو ہی بہا سکتی تھی ۔
’’اماں !ابا بتایا کرتے تھے کہ جب 1971میں بانگلہ علیحدہ ہوا تو وہ اور ان کا خاندان پاکستان سے محبت میں یہیں رہ گیا تھا ۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو محب وطن کہلوانا چاہتے تھے ۔میں انہیں کا بیٹا ہوں ۔ جس وطن کے لیے میرے آبائو اجداد نے بنگالی لوگوں کا ساتھ نہیں دیا اور اپنی محبت کا ثبوت یہیں کراچی میں رہ کر دیا ۔ بھلا میں کیسے برداشت کروں گا کہ میرے شہر میں ملک دشمن پھریں اور دن دہاڑے لوگوں کا قتل عام کرتے رہیں ۔ ‘‘نذرلاسلام کی آواز میں جوش تھا ۔
’’بیٹا !ہم بنگال چلے جاتے تو ٹھیک تھا ۔ یہاں جس کسمپرسی میں ہم نے زندگی بسر کی وہ میں یا میرا اللہ جانتا ہے ۔ پوری زندگی اسی گھاس پھونس اور ٹین کی دیواروں میں گزار دی ۔ تمہارے ابا کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا لیکن اسے بس کراچی سے محبت تھی کہ اس کے باوا کی قبر کراچی میں ہے وہ قبر کو نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اور پھر خود ہی ایک دن اپنے باوا کے پاس قبرستان میں جاسویا ۔ ‘‘
’’اماں !مرحوم ابا کے فیصلے کو برا نہ کہو اس نے اپنے پرکھوں سے محبت اور اس شہر سے وابستگی دکھائی اور دھان اور پٹ سن کے دیس سے دور رہا ۔ یہ مرحوم ابا کا فیصلہ تھا اس نے اچھا کیا یا براکیا ۔ لیکن ہمیں کون سا اس شہر نے بھوکا مار دیا ، اسی نے پالا پوسا ہے ، یہ ہی شہر ہمیں دو وقت کی عزت کی روٹی دیتا ہے ۔ ‘‘نذالاسلام کراچی سے محبت کے بدلے اپنی اماں کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔
’’کیا دیا اس شہر نکھوڑے نے ہمیں ۔ میرے ابا بھی تو اپنے اباکی قبر کی رکھوالی کے لیے کراچی کے ہو کر رہ گئے تھے ۔ وہ ہی ٹین اور گھاس پھونس کی کھولی جو انہیں ملی ، اب بھی وہ ہی اور وہاں سے ادھر آئی تو کون سے محل بنو ا دیے ، کھولی سے اٹھا کر کھولی میں پھینک دی گئی ہوں ۔ ‘‘نذرالاسلام کی بیوی منہ میں بڑبڑائی ۔
’’چپ کر !یہ تو اللہ کی طرف سے سیٹھ صاحب کی صورت میں ہمارے لیے ایک فرشتہ پیدا ہوا ہے جس کی فیکٹری میں کام ملا وہ بھی عزت والا ۔ ابا کے مرنے کے بعد فورمین لگادیا انہوں نے ۔ ناشکری کہیں کی اور کیا مانگتی ہے ۔ سنا ہے ہماری کچی آبادی کو بہت جلد حقوق مل جائیں گے پھر ہم ان کھولیوں سے نکل کر پکے گھر بھی بنولیویں گے ۔ ‘‘نذرالاسلام نے سیٹھ صاحب کا محبت سے احترام لیا ۔ اور کھانا کا کہہ کر صحن میں بچھی چٹائی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر گیا ۔
’’نذر !کیا تمہیں پکا یقین ہے یہ وہ ہی لڑکا تھا جو تمہارے ساتھ سنوکر کھیلتا تھا ۔ ‘‘کھانا دیتے ہوئے نذرالاسلام کی بیوی نے ایک بار پھر تصدیق چاہی ۔
’’ہاں !یہ وہ ہی تھا ۔ میں شادی سے پہلے جب سنوکر کلب جایا کرتا تھا تو نوریز رضوانی کا قاتل لڑکا اسی کلب میں سنوکر کھیلتا تھا ۔ قاسم نام تھا۔ تم دیکھنا وہ مجھے دوبارہ اسی سنوکر کلب کر دکھے گا۔ ‘‘نذر الاسلام کی آواز میں یقین تھا ۔ لیکن اس کے دل میں کیا تھا وہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ قاسم کو ڈھونڈنے کے بعد نذرالاسلام کیا کرے گا۔

٭٭٭

ایک ماہ ہونے کو تھا اسے تواتر سے سنوکر کلب پر آتے ہوئے ۔ اس نے سنوکر کلب میں دوبارہ سے بہت سے دوست بنا لیے تھے ۔ وہ ایک بار پھر ان دوستوں کے ساتھ مل کر پان کھاتا اور بیڑی پیتا تھا ۔ لیکن ایک ماہ میں ایک بار بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ قاسم سنوکر کلب آیا ہو ۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ کلب کے مالک سے پوچھے کہ قاسم ادھر آتا بھی ہے یا نہیں ۔ لیکن پھر اس نے اپنا خیال خود ہی یہ سوچ کر جھٹک دیا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ پوچھنے پر سنوکر مالک کو شک ہو جائے کہ وہ اس سے قاسم کے بار ے میں ہی کیوں پوچھ رہا ہے ۔ اس دن مغرب کی اذان کے ساتھ ہی اس نے واپسی کی ٹھانی ہی تھی کہ سنوکر کلب کے باہر موٹرسائیکل کی بڑی بھدی سی آواز سنائی دی ، شاید کسی نوجوان نے سائلنسر نکال رکھا تھا ۔ کچھ ہی دیر بعد دو نوجوان سنوکر کلب میں داخل ہوئے ۔ دونوں نوجوانوں کو دیکھ کر نذرالاسلام کو پہچاننے میں ایک لمحے کے لیے بھی دقت نہیں ہوئی ۔ یہ قاسم اور اس کا ساتھی تھا ۔ قاسم جیسے ہی سنوکر کلب میں داخل ہوا تو سنوکر کلب کا مالک اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اوئے آیا ہمارا شہزاد یار ! ‘‘سنوکر مالک نے گرجدار آواز میں قاسم کا استقبال کیا ۔ گرجدار آواز سن کر سنوکرکھیلنے والے اس طرف دیکھے بنا نہ رہ سکے ۔ قاسم سکائی بلیو جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا ۔ اس کے ہاتھ میں باریک سنگلی انرجی سیور کی روشنی میں جگمگارہی تھی ۔ منہ میں پان جباتے ہوئے وہ بار بار کائونٹر کے پاس ہی پچکاریاں مار رہا تھا ۔
’’ارے بھئی !کہاں تھے اتنے دنوں سے اب تو مہینوں تم نظر نہیں آتے ، لگتا ہے دھندے میں کچھ زیادہ ہی مصروف ہوگئے ہو ۔ ‘‘کلب کا مالک گلے کے شکوے میں اس کی مصروفیت پر بھی تبصرہ کر رہا تھا ۔
’’اوئے چھوکرے ذرا ایک دم فرسٹ کلاس قسم کی دودھ پتی کہو ، باہر کھوکھے والے کو ۔ اسے کہنا ذرا ایک دم پپوقسم کی دودھ پتی ہو ، ہمارا شہزاد ہ آیا ہے ۔ ‘‘سنوکر کلب کا مالک تو بلائیں ہی لیے جارہاتھا ۔ پھر وہ آپس میں گپیں ہانکنے لگے ۔ گپیں لگاتے ہوئے ان کی آواز آہستہ تھی جو کائونٹر سے دور کھڑے کسی کھلاڑی کو سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ لیکن کبھی کبھار بڑی زور کا قہقہہ لگتا ۔دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ۔ وہ دونوں گپیں مار رہے تھے تو نذرالاسلام سوچ رہا تھا ہو نہ ہو ۔ سنوکر کلب کے مالک کوبھی اس کے سارے دھندے کا معلوم ہے ۔ یقینا سنوکر کلب کا مالک بھی اس دھندے میں کہیں نہ کہیں اس کی مدد کرتا ہوگا۔ نذرالاسلام سوچ بھی رہا تھااور ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اب وہ کیسے معلوم کرے کہ قاسم کا ٹھکانہ کون سا ہے کیونکہ وہ تو موٹر بائیک پر آئے تھے جبکہ نذرالاسلام کے پاس موٹربائیک تھی نہیں ۔پھر ایک دم اس کے پاس ایک بہانہ آگیا ۔
’’وہ ایک دم چیخا ۔کیوں کیا ہوا اماں کو !‘‘اس کی آواز سن کر سب کی توجہ اس کی طرف گئی ۔ اس نے کان سے موبائل لگا رکھاتھا ۔ دیکھنے والے یہ ہی سمجھے کہ فون پر کسی نے اس کی ماں کی طرف سے اطلاع دی ہے ۔ نذرالاسلام نے جب دیکھا کہ اس کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے تو اس نے غمزدہ چہرے کے ساتھ لرزتی آواز میں سنوکر مالک سے اس کی موٹر بائیک کی چابی مانگی کہ اس کی ماں کو دل کا دورہ پڑا ہے ایمرجنسی ہے ۔ صورت حال ہی ایسی تھی ۔ سنوکر مالک بھی جانتا تھا کہ نذرالاسلام روز اس کے کلب پر آتا ہے اور نذرلاسلام لانڈھی کی کس گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا ہے ۔ اس لیے اس نے ایمرجنسی دیکھتے ہوئے فورا اسے اپنی موٹر بائیک کی چابی تھمادی ۔ وہ چابی لے کر بھاگا ۔ اس کا پہلا وار کارگر ثابت ہوا تھا ۔ اس نے باہر آتے ہی موٹر بائیک سٹارٹ کی اور سامنے گلی کی نکڑ پر ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا ۔ اس کی قسمت اچھی تھی ابھی اسے کھڑے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ قاسم اور اس کا ساتھی بھی سنوکر کلب سے باہر نکلے اور اپنی موٹر بائیک سٹارٹ کر کے اسکے قریب سے زن کر کے گزر گئے وہ اپنی مستی میں گم تھے انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی ۔ اب اگلا امتحان باقی تھا ۔ اس نے اپنی موٹر بائیک ان کے موٹربائیک کے پیچھے ڈال دی ۔ ایک لمبا سفر تھا ۔ کوئی آدھ گھنٹہ سے بھی زیادہ وقت گزر چکا تھا وہ کراچی کی سڑکوں پر ان کا پیچھا کرتا ہوں ۔ سائیٹ کے علاقے میں پہنچ چکا تھا ۔ بنوریہ چوک سے مڑتے ہی ایک ریستوران کی ساتھ والی سڑک پر قاسم کی موٹربائیک بھاگے چلے جارہی تھی ۔ وہ کچھ فاصلہ رکھ کر ان کا پیچھا کر رہا تھا ۔ سڑک ایک ڈھلوان پر جاکر ختم ہو گئی ۔ پتھریلا ہموار راستہ ہی تھا ۔ رات کے اندھیرے میں اس سڑک پر زیادہ رش نہیں تھا ۔ لیکن پھر بھی چند ایک موٹر سائیکل اس سڑک پر دونوں طرف آتے جاتے دیکھے جاسکتے تھے ۔ سڑکے جنوبی طرف ایک پہاڑی تھی اور یہ سڑک اسی پہاڑی کی طرف اونچی ہوتی جارہی تھی ۔ اس سے پہلے کہ قاسم کی موٹر بائیک اس پہاڑی پر چڑھتی اس نے شمالی طرف موڑکاٹا ۔ جتنی دیر میں نذرالاسلام وہاں پہنچاتو وہاں کچھ نہیں تھا ۔ اس نے موٹر بائیک روک دی ۔ موٹر بائیک روک کر اس نے اس کی ہیڈلائیٹ احتیاطا بندکردیں اور جائزہ لینے لگا کہ یہ لوگ کس طرف گئے ہوں گے ۔ سڑک کی شمالی طرف صرف دو گھر تھے ۔ اس نے اندھیرے میں ٹٹولا تو ان گھروں کے پچھواڑ ے میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ پیچھے ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی ۔ نذرلاسلام اندھیرے میں کھڑا اندازہ لگا رہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی شک کی بنا کر چکما دے کر کسی اور طرف نہ نکل گئے ہوں ۔ ابھی وہ اسی کشمکش میں تھا کہ اس نے سفید رنگ کے گیٹ والے گھر کے صحن میں اسی سائلنسر نکلے موٹر بائیک کے اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی ۔ شاید وہ لوگ ابھی کچھ دیر میں دوبارہ کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلنے کو تھے ۔ نذرالاسلام نے فورا اپنی موٹر بائیک سٹارٹ کی اور تیزی سے موڑکاٹتے ہوئے واپسی کی راہ لی ۔

٭٭٭

’’نذر کیا تمہیں پکا یقین ہے کہ یہ وہی لڑکا ہے جس نے میرے بھائی پر گولی چلائی تھی ۔‘‘قدیر رضوانی اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے غمزدہ آواز میں بولے ۔
’’جی سیٹھ صاحب !اگر شک کی کوئی گنجائش بھی ہوتی تو میں کبھی ایک مہینہ ان کو تلاش کرنے میں نہ لگاتا ۔ میرے ابا کے مرنے کے بعد آپ ہی میرے سب کچھ ہیں ۔ آپ کا دکھ میرا دکھ تھا ۔ میں نے کل رات ان کا پیچھا کیا‘‘نذرالاسلام اگلے صبح قدیر رضوانی کے دفتر میں بیٹھا انہیں ساری کہانی سنارہا تھا ۔ قدیر رضوانی تھوڑی پر ہاتھ رکھے اپنی کرسی کر گھما رہے تھے ۔
’’سیٹھ صاحب ! یہ کراچی تو ہم سب کا ان داتا ہے ۔ اس نے تو ہمیں کیا ملک کے کونے کونے سے آنے والے لوگوں کو اپنے دل میں بسایا ہے ۔ پھر ایسے لوگ ناسور ہیں جنہوں نے اس کے امن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ مجھے اگر ان کا پیچھا کرتے ہوئے کسی شک کی بنا کر کچھ ہو بھی جاتا تو میں اپنے اللہ کے سامنے سرخرو ہو کر حاضر ہوتا کیونکہ انہوں نے نہ صرف نوریز رضوانی صاحب کو بے موت مارا بلکہ پتہ نہیں کس کس کے بیٹے ، کس کے بھائی ، کس کے باپ کو بے موت پروانہ پکڑا دیا ۔ ایسے لوگ کراچی کے مجرم ہیں ۔ میرے ابا !اس کراچی سے محبت کرتے تھے ۔ میرے داد ا کی قبر بھی اسی شہر میں ہے ۔ میں ایسے لوگوں کو اگر پکڑوانے میں کامیاب ہو جائوں تو میرے ابا کی روح کتنی خوش ہوگی ۔ ‘‘نذرالاسلام فرط جذبات میں رو دیا ۔
’’بھائی جان ! یہ مجیب الاسلام کا بیٹا ہے ۔ مجیب ہمارا بہت پرانا فورمین تھا ۔اس کی وفات کے بعد ہم نے اس کے بیٹے کو اس کی جگہ پر تعینات کیا تھا ۔ ‘‘قدیر رضوانی اپنے بڑے بھائی جو محکمہ پولیس میں ایس پی تھے انہیں کال کرکے ساری کہانی سنارہے تھے ۔ نذرالاسلام سامنے بیٹھا ان کی ساری باتین سن رہاتھا ۔ پھر کچھ دیر بعد ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ۔
’’بھائی جان !ابھی اسی وقت فیکٹری آرہے ہیں وہ تم سے خود ملنا چاہ رہے ہیں ۔ ‘‘سیٹھ قدیر رضوانی نے کال ختم ہوتے ہیں نذرالاسلام کو مخاطب کیا ۔ پھر وہ مزید اس حوالے سے باتیں کرنے لگے ۔

٭٭٭

ایس پی صاحب فیکٹری سے نکلتے ہوئے اکیلے نہیں تھے بلکہ نذرالاسلام اور قدیر رضوانی بھی ساتھ تھے ۔ نذرالاسلام نے ساری کہانی انہیں بھی سنادی ۔ وہ آج ہی نذرالاسلام کی نشاندہی پر قاسم کے ٹھکانے پر ریٹ کرنے والے تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ اس ٹھکانے پر اگر قاسم نہ بھی ملاتو یقینا کچھ ایسے لوگ یا شواہد ان کے ہتھے چڑھ جائیں گے جس سے ٹارگٹ کلر ز تک پہنچنے میں آسانی ہوگی ۔
انہوں نے اس رات ہی اپنی نفری کے ساتھ نذرالاسلام کی نشاندہی پر چھاپہ مارا ، نذرلاسلام کا اندازہ ٹھیک نکلا ۔ آدھی رات کو چھاپہ مارنے پر نہ صرف وہاں سے قاسم اور اس کا ساتھی پولیس کے ہتھے لگا بلکہ مزید تین لوگ اور بہت سا آتشیں اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ۔ بعد میں تحقیق اور پولیس کی روایتی مارکٹائی نے ان کے منہ سے اس ٹارگٹ کلر گینگ کے سرغنہ کو بھی نرغے میں پھنسا لیا ۔انکوائری کے دوران پتہ چلا اس گینگ نے نہ صرف بھتہ خوری ، بلکہ اغوا برائے تاوان اور نوریز رضوانی سمیت نامور شخصیات کو بھی موت کا نشانہ بنایا تھا ۔ بات میڈیا تک پہنچی ۔ ایس پی صاحب نے کامیاب آپریشن اور ٹارگٹ کلر ز کی گرفتاری میں نذرالاسلام کی بہادری اور جرات کی داستان اوپر تک پہنچا دی ۔ آئی جی صاحب نے نذر کی بہادری اور جرات کو دیکھتے ہوئے شہر کے بڑے ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا کہ وہاں اس بہادر نوجوان کو تمغہ جرات سے نوازہ جائے ۔ لیکن اس سے پہلے انہوں نے نذر سے ملنے کی خواہش کا اظہارکیا ۔
اگلے دن قدیر رضوانی ، ایس پی صاحب نذرلاسلام کے ساتھ آئی جی صاحب کی آفس کی طرف جارہے تھے ۔ جہاں قدیر رضوانی اور ایس پی صاحب خوش تھے وہاں نذرالاسلام بھی خوش نظر آرہا تھا کہ اس کی بہادری کی چرچے اتنے ہوئے کہ جن کو دیکھنے کو ترستا تھا آج انہوں نے ہی ملنے کا اظہارکیا ۔ جیسے ہی وہ لوگ آئی جی صاحب کے آفس میں پہنچے تو ایس پی صاحب نے محکمانہ سیلوٹ مارا ۔ آئی جی صاحب ان تینوں کو دیکھ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
’’مسٹر رضوانی !آپ نے بتایا نہیں کہ یہ کارنامہ ایک بنگالی نے سرانجام دیا ہے ۔ ‘‘آئی جی اتنا کہہ کر آگے بڑھے اور نذرالاسلام سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا لیکن نذرالاسلام جو کچھ دیر پہلے تک بہت گرم جوشی سے آئی جی صاحب کے آفس میں داخل ہوا تھا ۔ ’’بنگالی ‘‘ لفظ سن کر اس کی گرم جوشی ختم ہو چکی تھی ۔ اس کی سماعتوں سے ہتھوڑے بن کر لفظ ’’بنگالی ‘‘ برس رہا تھا ۔ وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھے رہے اس کے چہرے پر مسکراہٹ ضرورتھی لیکن اندر ایک طوفان برپا تھا ۔ کیا وہ اب بھی پاکستانی نہیں ہے ۔ جس نے پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے سپاہیوں کے حوالے کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا ۔ کیا وہ اب بھی پاکستانی ہیں جو مذموم مقاصد کے لیے بھتہ خوری ، اغوا، دہشت گردی اور قتل و غارت کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا ۔ وہ تیسری بار ٹوٹا تھا پہلی بار جب اس کا ابا مرا ، دوسری بار جب اس کے مالک قدیر رضوانی کے بھائی نوریز رضوانی کو گولی سے بے موت مارا گیا اور تیسر ا بار جب اسے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ’’بنگالی ‘‘ کہہ کر محب وطن کو مارا گیا ۔ وہ آئی جی آفس میں بیٹھا چائے کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کیا اسے اور اس کی نسل کو ایک صدی اور اپنی شناخت کا سفر کرنا ہو گا یا ہمیشہ رہتی دنیا تک وہ اور اس کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہتے ہوئے بھی بنگالی ہی کہلائیں گی ۔

محمد ندیم اختر کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ سے ہے۔بچوں کے ادب میں کئی مقبول کہانیوںکی تخلیق کا سہرا ان کے سر ہے۔ ادب اطفال میں کئی تنظیموں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج کل ایک این جی او میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ بچوں کے ادب میں کئی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی کہانیوں کی 3 کتب اور ایک ناول منظر عام پر آ چکا ہے۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here