گمشدگی ——— تحریر: بخت رسا

0
3

پہلی جماعت کے کمرے میں اس وقت مکمل خاموشی تھی۔تمام بچے بڑے انہماک سے مس لبنی کی بات سن رہے تھے۔ وہ انہیں لاہور کے چڑیا گھر کی سیر کے بارے میں بتا رہی تھیں۔ بچوں کی آنکھیں خوشی اور اشتیاق سے چمک رہی تھیں۔ کچھ بچے توآنکھوں کے ساتھ اپنے منہ بھی کھولے مس کی بات سن رہےتھے۔ نتھا عمر تو کہنیاں ڈیسک پر لگائے خیالوں میں ہی لاہور کے چڑیا گھر کی سیر کو پہنچ گیا۔ “مس آپ بھی ہمارے ساتھ جائیں گی نا”عمران کی آواز نے اسے چونکا دیا۔
نہیں بھئی شہر سے باہر تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ اسکول کی انتظامیہ کسی بھی استانی کو نہیں بھیجتی۔ آپ لوگوں کے ساتھ جو نئیر اسکول کے چار استاد جائیں گے “مس لبنی نے جواب دیا۔مس تو صرف چڑیا گھر کی سیر کریں گے لاہور میں اور کچھ نہیں ؟ امجد نے کرسی پر اچھلتے ہوئے پوچھا۔
نہیں بیٹے لاہور اتنا بڑا شہر ہے۔ وہاں تو دیکھنے کے قابل بے شمار چیزیں ہیں۔ لیکن یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ لوگوں کے پاس چڑیا گھر کی سیر کے بعد کتنا وقت بچتا ہے۔ آپ لوگوں کو رات سے پہلے واپس اسکول بھی تو پہنچنا ہے ” مس نے پیار سےجواب دیا۔ چھٹی کے وقت تک عمر نجانے کیسے خود پر قابو پا کر بیٹھا رہا۔۔اس کا گھر اسکول کے بہت قریب تھا اس لئے وہ پیدل گھرجاتا تھا۔ گھر پہنچتے ہی بستہ پھینک کر وہ سرپٹ بھاگتا ہوا امی کے پاس باورچی خانے میں پہنچا۔ امی امی ہم لاہور جائیں گے چڑیا گھر دیکھنےاسکول کے ساتھ ! اور وہ چار سربھی جائیں گے، مس لبنٰی نہیں جائیں گی۔ اگر وقت ہوا تو کچھ اور بھی دیکھیں گے۔ امی میں میٹھے انڈے والے تو س لے کر جاؤں گا ” عمر صاحب نے ایک ہی سانس میں بغیر رکے امی کو اطلاع دی۔ عمر سلام تو کرہ امی نے مسکرا کر کہا۔
اوہ ،السلام علیکم امی ” عمر نے سلام کیا۔”وعلیکم السلام ” امی نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا کرکہا۔ اب بتاؤ کیا کہ رہے ہو آرام سے ؟”
عمر مرید کے کے ایک چھوٹے سے انگلش میڈیم اسکول کا طالب علم تھا۔ اس کے ابا مقامی بنک کے مینجر تھے۔ عمر اور علی دوہی بھائی تھے۔ علی سرکاری اسکول میں جماعت پنجم کا طالب علم تھا۔مرید کے میں کوئی بھی چڑیا گھر نہیں تھا۔ وہاں صرف چند پارک تھے۔اس لئے اسکول کی انتظامیہ نے بچوں کو موسم بہار میں لاہور کا چڑیا گھر دکھانے کا فیصلہ کیا اور اب جمعہ کو پہلی جماعت کے 32 بچے اپنے چار اساتذہ کے ساتھ اس تفریح کے لئے تیار تھے۔جب عمر کپڑے تبدیل کر کے کھانے کی میز پہ بیٹھا تو ابو اورعلی بھائی بھی اپنے بنک اور اسکول سے واپس آچکے تھے۔ عمر بہت اشتیاق اور جوش سے پھدک پھدک کر سب کو لاہور جانے کے بارے میں بتا رہا تھا اور ابو کل آپ نے ضرور جا کر دفتر میں پرنسپل صاحب کو بتاتا ہے کہ آپ نے مجھے جانے کی اجازت دے دی ہے امی ٹھیک ہے نا ! عمر نے ایک ساتھ امی اور ابو کو مخاطب کیا تو ابو نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
اگلے روز ابو نہ صرف اسکول جا کر پرنسپل صاحب سے ملاقات بھی کر آئے بلکہ مطلوبہ رقم بھی دفتر میں جمع کروا آئے۔ ابھی جمعہ دو دن بعد تھا‘ عمر سے یہ دو دن گزر نہ پا رہے تھے۔ عمر کیا جماعت کے ہر بچے کا یہ عالم تھا۔ سارا وقت لاہور اور لاہور کے چڑیا گھر کی باتیں ہوتیں۔ خالد نے انہیں اپنے لاہور میں رہنے والے پھوپھی زاد کے سیر سپاٹے کے قصے سنا سنا کر اور بھی اشتیاق دلایا تھا۔خالد نے بتایا تھا کہ لاہور کا مینار پاکستان بالکل پھول کی مانند ہے ،شاہی قلعہ تو اتنا بڑا ہے کہ مرید کے پورا اس کے اندر آجائے اور رات کے وقت نہر میں بتیاں جلتی ہیں اور نہر کے نیچے سے بھی سڑکیں گزرتی ہیں۔ ان قصوں کو سن سن کر عمر کو لا ہو ر پر یوں کا دیس معلوم ہو تا تھا۔ جمعے کی رات اسے نیند ہی نہ آرہی تھی۔ کبھی چمک دار سیاہ بالوں والے چیتے کا خیال آتا، تو کبھی آنکھوں کے آگے نہر کی بتیاں جلنے بجھنے لگتیں۔ یہی سوچتے سوچتے اسے نیند نے آلیا۔ صبح ہوئی تو امی نے اسے جگایا۔ آج عمر نے بستر سے اٹھنے میں خلاف معمول ایک سیکنڈ بھی نہ لگایا بلکہ اسے تو یوں لگ رہا تھا جیسے امی آج کچھ ستی سے ناشتا بنارہی ہیں۔ ”او ہو امی دودھ رات کو آکر پی لوں گا اس نے دودھ کا گلاس پرے کرتے ہوئے کہا۔ جی نہیں ، یہ پورا دودھ پی کر جاتا ہے اور تمہارے لنچ باکس میں میٹھے انڈے والے توس کے ساتھ میں نے کباب بھی رکھے ہیں۔ خود کھاؤ تو دوستوں کو بھی دعوت دینا امی نے کہا۔میں رات آپ کو ٹھیک 7 بجے اسکول لینے پہنچ جاؤں گا”ابو نے عمر سے کہا۔اور عمر اگر تصویر اترے نا تو ضرور اتروالینا۔ ایسی چیزیں یادگار ہوتی ہیں علی نے ہدایت کی۔
آج ابو عمر کو خود اسکول چھوڑنے گئے ، باقی بچوں کے ابووالدین بھی وہاں موجود تھے۔ سرعامر سب کو یہی ہدایت کر رہے تھےکہ وہ 7 بجے بچوں کو لینے پہنچ جائیں۔ ”ارے عمران یہ اتنی بڑی تھرماس کیا ہے اس میں ؟ مس لبنٰی نے ہانپتے کانپتے عمران کو بڑی سی تھرماس اٹھائے دیکھا تو پوچھا۔ مس پانی لایا ہوں پیاس لگے گی عمران نے جواب دیا۔”پانی اور وہ جو اتنا بڑا کو لرجارہا ہے ساتھ تم لوگوں کے لیے۔یہ تھرماس آپ واپس لے جائیں”۔ مس لبنی نے عمران کے ابو کواطمینان دلایا۔ پھر کچھ ہی دیر میں تمام بچے اور اساتذہ چمکیلی سی بڑی لاری میں بیٹھ کر لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ سب بچے چہک رہے تھے۔ سر عابد نے نرسری رائم گانا شروع کی تو بچے بھی تالیاں بجا بجا کر ان کا ساتھ دینے لگے۔ ننھا قمر جو کہ قد میں بہت ہی چھوٹا تھا
پھدک کر سر عابد کی گود میں جا بیٹھا۔ اس کی دیکھا دیکھی سب بچے سر کے قریب جمع ہونے لگے۔ ” نہیں بھئی نہیں ” سر نصیر نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا ” چلتی بس میں اپنی نشست سے اٹھنا ٹھیک نہیں۔ اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھ کر نظم گائیں”۔ سر نصیر تمام اساتذہ میں سینئر تھے۔ سب لوگ خوشی سے چہک رہے تھے لیکن سر تو قیر کچھ سستی سے اپنی جگہ پر ڈھیر تھے۔ “سر!سر، شیر چار طرح کے ہوتے ہیں نا؟ عمر نے سر عابد کے چہرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔صرف چار نہیں ، شیر تو بے شمار قسموں کے ہوتے ہیں ” سرنے جواب دیا اور حامد کی قمیص کا کالر پکڑ کر اسے اس کی جگہ پر بٹھایا۔وہ صاحب زادے کھڑکی سے باہر لٹکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ “سراسر آپ سو گئے ہیں ؟ ” عمران نے سر تو قیر کو ہلا کر پوچھا۔نہیں ، نہیں ، بس ویسے ہی میرا سر کچھ بھاری ہو رہا ہے۔چلو اب تم آرام سے بیٹھ جاؤ ” سر نے قدرے بیزاری سے کہا۔
ان کا سفر شروع ہوئے تقریبا ایک گھنٹا ہو چکا تھا۔ بچے اب زیادہ بے چین ہو رہے تھے۔ سر نصیر اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا “بچو!اب کچھ نہ کچھ کھا لینا چاہیے۔ نہیں نہیں، اپنے لنچ باکس نہ کھولیں۔ ابھی تو ہم صرف بسکٹ کھائیں گے”۔ پھر انہوں نے پانی کے بڑے کولر کے برابر پڑا بڑا ساڈبا کھولا اور ہر بچے کو اس کی جگہ پر بیٹھے ہی بسکٹ کا ایک ایک چھوٹا سا پیکٹ دیا۔ سب بچے خوش ہوگئے۔ کیوں کہ چاکلیٹ بسکٹ تو سبھی کے پسندیدہ تھے۔ بس آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ عمر کا دل اب کچھ عجیب طرح سے دھڑک رہا تھا۔ ”پتا نہیں چڑیا گھر کیسا ہو گا؟ سنا ہے بہت خوب صورت اور بہت بڑا ہے۔ کہیں کوئی جانورباہر نہ نکل آئے۔لنگور تو فور ا دوستی کر لیتے ہیں ” اس خیال کے ساتھ ہی اسے اپنے تھیلے میں پڑے چنے یاد آئے جو اس نے خاص طور پر علی بھائی کے کہنے پر بندروں کے لیے رکھوائے تھے۔ “پرندے بھی تو بہت سارے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تو کوئی دانہ دنکالایا ہی نہیں “اس نے تاسف سے سوچا۔ بسکٹ کھا کر اسے پیاس ستانے لگی تھی۔”سرپانی پی لوں؟” اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے سر عابد سے پوچھا۔پی لو انہوں نے مسکرا کر اجازت دی۔ پانی پی کر جب اس نے کولر کے برابر گلاس واپس رکھا تو اس کو زرافے کی ایک تصویر یاد آگئی ”سر زرافہ ٹانگیں کھول کر پانی پیتا ہے نا؟” اس نے سر تو قیرسے پوچھا ہاں ہاں اس کی گردن لمبی جو ہوتی ہے” تو قیر صاحب کےبجائے سر عابد نے مسکرا کر بتایا۔ تو قیر صاحب کو شاید مسلسل سفر کی وجہ سے کچھ نیند آرہی تھی۔


بچو اب ہم لاہور میں داخل ہو رہے ہیں “نصیر صاحب نےبچوں کو چوکنا کیا تو سبھی کھڑکیوں سے باہر جھانکنے لگے۔کوئی بچہ کھڑکی سے باہر نہیں لٹکے گا” عامر صاحب نے سختی سے کہا۔ وہ نظم و ضبط کے بہت قائل تھے۔ پھر ان کی بس کچھ آہستہ ہوئی۔ بچو! یہ لاہور کا مشہور دریائے راوی ہے اور ہم راوی کے پل پر جارہے ہیں ۔سب بچے بہت انہماک سے اپنی دونوں جانب پھیلے دریا کو دیکھ رہے تھے۔ “سرایہ سمندر سے بڑا ہے ؟ عمران نے پوچھا۔دو نہیں، دریا سمندر سے چھوٹا ہوتا ہے۔ کراچی میں سمندر ہے ” خالد نے اطلاع دی۔ پھر بس لاہور کی حدود میں داخل ہوئی۔یہاں آکر ٹریفک کچھ زیادہ ہو گئی تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے میں وہ بادشاہی مسجد مینار پاکستان اور شاہی قلعے سے گزرتے ہوئے گورنمنٹ کالج کے قریب پہنچے ، سر نصیر بچوں کو بہت آسان زبان میں لاہور کی ان مشہور تاریخی عمارات کے متعلق بتاتے گئے۔کچہری سے گزر کر اب وہ شاہراہ قائد اعظم پر آچکے تھے “سریہ جنگ ہے؟ یا سر نے گھبرا کر پوچھا۔ وہ اکثر گھبرایا ہوا ہی رہتا تھا۔کہاں جنگ؟ اچھا!” سر عامر نے سڑک پہ نصب بڑی سی توپ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ” یہ بھی ایک یاد گار ہے سب بچےدیکھیں”۔
بس اب بہت آہستہ چل رہی تھی ، رش ہی اس قدر تھا۔آخر خدا خدا کر کے وہ انار کلی چوک اور جنرل پوسٹ آفس سےگزرتے ہوئے چڑیا گھر کے گیٹ پر پہنچ گئے۔ سرعامر اور سر عابد نےنصیر صاحب کی ہدایت پر بہت پھرتی سے سب بچوں کو دو دو کی قطاروں میں کھڑا کر دیا۔ بچے بہت شور کر رہے تھے۔ کوئی اپنا لنچ باکس سنبھال رہا تھا، کوئی جانوروں کو کھلانے کے لیے چپس دیکھ رہا تھا تو کسی کے بوٹ کا تسمہ کھل گیا تھا۔ آخر سر نصیر نے سب کو بس سے نیچے اترا اور آٹھ آٹھ کے چار گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ سر عامر ٹکٹ گھر کی طرف چلے گئے۔ بچو سب نے ایک دوسرے کےساتھ اپنے اپنے گروہ میں رہنا ہے اور سر کی بات ماننی ہے ” نصیر صاحب نے کہا۔
عمر مطمئن تھا کہ اس کے دونوں دوست عمران اور ننھا قمربھی اس کے ہی گروہ میں شامل تھے۔ ان کے گروپ کے سربراہ سر تو قیر تھے۔ پھر سر نصیر کے گروپ کے پیچھے باقی 3 اساتذہ بھی چڑیا گھرکے پھاٹک کے اندرداخل ہو گئے۔واہ کتنی پیاری جگہ ہے!” عمر نے بے اختیار سوچا۔ اسےاندر داخل ہوتے ہی سلیٹی رنگ کی چوڑی بڑی پتھریلی سیڑھیاں اور ان کے نیچے جنگلے سے جھانکتا سبزہ بہت ہی بھلا لگا۔ وہ ایک کر زینے کے کنارے تک چلا آیا۔
” سرا سرا دیکھیں عمر کو ” نادر سے خاموش نہ رہا گیا ہر وقت ہر جگہ اور ہربات کی شکایت کرنا اس کی عادت تھی۔ “تو قیر صاحب ” سر نصیر نے انہیں بے خبر پا کر پکارا اور عمر کی ۔جانب دیکھا۔عمر واپس آؤ!” تو قیر صاحب نے چونک کر اسے پکارا توآنکھوں میں اشتیاق اور حیرت سمیٹے وہ واپس پلٹ آیا۔ جب یہ چھوٹا سا قافلہ آگے بڑھا تو سب سے پہلے بندروں کا پنجرہ تھا۔ نتھا قمر فوراً ان بندروں کا منہ چڑانے لگا۔ جو ابا قریب کے تین بند ر “کھی کھی ”کرنے لگے۔ اب تو سب بچے ہنسنے لگے۔ عمر حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں عمران نے اس کا کندھا ہلایا۔ “عمر وہ دیکھو ” اس کےنے جھولے سے الٹا لٹکے لنگور کی طرف اشارہ کیا۔سر اس بندر کا کیا نام ہے ؟ نادر نے پوچھا۔
یہاں اس کا نام نہیں لکھا تو قیر صاحب نے جواب دیا۔” سر آپ کو پتا بھی نہیں ؟ نادر نے اصرار کیا۔بیٹے یہ لنگور ہے ” قریب کھڑے سرعابد بولے۔“
لنگور ” عمر چونکا۔
اور اس کا سر اس مرتبہ عمر نے ایک لمبے قد کے سنہرے بالوں والے بندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ یہ بونن یعنی بڑا بندر جسے بن مانس بھی کہا جاتا ہے”ماجد صاحب نے پنجرے پہ نصب سختی سے پڑھ کر بتایا۔ پھر سر نصیرنے بچوں کو بندروں کی مختلف عادات کے متعلق چند اور باتیں بتائیں۔بندروں کے پنجرے سے آگے بڑھے تو دریائی بھینسا اپنےبڑے سے تالاب میں پڑا اونگھ رہا تھا۔ اس وقت صرف اس کے سرکا کچھ حصہ پانی سے باہر نظر آرہا تھا۔ وہ سانس لیتا تو پانی کی سطح پر بلبلےابھرتے۔
ہیں یہ کیا ہے ؟ عمران ناک چڑھا کر چیخا۔یہ دریائی بھیناا ہے سو رہا ہے ” سر تو قیر نے جنگلے کی طرف بڑھتے ہوئے بتایا۔ قمر پھدک کر جنگلے کے اوپر چڑھنے لگا۔ یہ جاگے گا کب ؟ آؤ اسے جگائیں ” وہ چیخا۔
اوں ہوں اسے سونے دو یہ آرام کر رہا ہے ” سر تو قیر نے قمر کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنگلے سے اتارا۔سر مجھے نہیں نظر آرہا عمر نے بیزاری سے کہا۔یہ پانی سے باہر کیوں نہیں آتا؟” نادر کو بھی پریشانی تھی۔آجائے گا۔ ہو سکتا ہے ہماری واپسی تک یہ جاگ جائے ” سر تو قیرنے انہیں تسلی دی۔ اتنے میں عامر صاحب بھی اپنے گروہ کے ساتھان کے قریب آگئے اور سب بچوں کو دریائی بھینسے کے متعلق جومعلومات اس جنگلے پر نصب بورڈ پر لکھی تھیں پڑھ کر سنانے لگے۔
کچھوا ،کنگرو ،گیدڑ ،چرخ، اور بھیڑیے دیکھنے کے بعد تو قیر صاحبانہیں ہاتھی دکھانے لے گئے۔” سر اس پہ بیٹھنا ہے ” نادر نے فرمائش کی۔ا بھی نہیں بعد میں سب اکٹھے ہوں گے تب ” سر تو قیر نےاسے بتایا۔ پھر انہوں نے زرافہ ،ہرن لاما اور ریچھ وغیرہ دیکھے۔
زرافہ پانی کب اور کیسے پیے گا ؟عمر یہ دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن آج شاید کسی بھی زرافے کو پیاس نہیں لگی تھی۔ کنگرو کی جیب میں
سے جھانکتا ہوا اس کا چھوٹا سا بچہ دیکھ کر تو عمر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔باقی بچوں کا بھی یہی حال تھا۔ “کتنا پیارا ہے اس نے سرگوشی میں قمر سے کہا تو جواب میں قمر نے اثبات میں سرہلایا۔” سر شیر کب آئے گا؟ ” یا سرنے بے چینی ظاہر کی۔
“شیر بھی ابھی دیکھتے ہیں۔ آؤ ایک اور بہت ہی خوب صورت اور دل چسپ نظارہ دیکھیں” یہ کہ کر تو قیر صاحب نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور موروں کے پنجرے کی طرف بڑھے۔ پھر مور کاناچ دیکھ کر تو سب ہی بہت لطف اندوز ہوئے۔
سر! ہاتھی پر کب بیٹھیں گے ؟ نادر نے پوچھا۔” نادر کہا ہے نا ں ہاتھی کی سیر جب سب اکٹھے ہو جائیں گے تو پھر کریں گے ” تو قیر صاحب نے قدرے سختی سے کہا۔”سر یہ کیا ہے؟” بڑے سے شتر مرغ کو دیکھ کر ننھے قمر نےتالی بجا کرا چھلتے ہوئے پوچھا۔
وہ لوگ اب پرندوں کے پنجروں کے پاس کھڑے تھے۔تم بتاؤ تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ یہ کیا ہے اس کی تصویرہیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر کے باہر بھی لگی ہے ” سر تو قیر نے پوچھا۔” یہ۔۔۔ یہ وہ ہے اونٹ”
نہیں شتر مرغ ” عمران کی بات کاٹ کر یا سرنے بتایا۔”ہاں بالکل یہ شتر مرغ ہے”۔
” سر یہ بتائیں ” عمران نے جنگلے پر لگی تختی کی طرف اشارہ کیا تو تو قیر صاحب نے تختی پر لکھی شتر مرغ سے متعلق معلومات پڑھ کر سنائیں۔ اوہ یار اس کا انڈا !!! کتنے لوگ ناشتا کرتے ہوں گے اس سے؟۔ تربوز جتنا بڑا ہوتا ہو گا۔ خالد نے گول گول آنکھیں کھول کر کہا لیکن کسی نے بھی اس کی بات کا جواب نہ دیا۔ کیوں کہ بھی بچے جنگلے کے ساتھ چپکے بہت تجست سے شتر مرغوں کو بغور دیکھ رہے تھے۔ ذرا آگے ہی زیبرے کا پنجرا تھا۔ یہ بھی بچوں کے لیےایک عجوبہ ہی تھا۔ جب سر عامر نے انہیں بتایا کہ جس طرح دنیا کے ہر انسان کے ہاتھوں کی لکیریں مختلف ہوتی ہیں اسی طرح زمین پرموجود ہر زیبرے کی دھاریوں میں بھی فرق ہوتا ہے تو سب ہی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ عمر کا دل تو پیارے پیارے زیروں میں اٹک کر رہ گیا۔ وہ ہر ایک کو بہت غور سے دیکھنے لگا کہ شاید کسی کی دھاریاں ایک جیسی ہوں۔ وہ اسی خیال میں گم تھا کہ عمران نے اسے گھسیٹا اور کہا ”چلو یار شیر دیکھتے ہیں”۔
جب بچے شیروں کے لیے مخصوص جگہ پر پہنچے تو دو شیردھوپ میں لیٹے ہوئے تھے۔ دونوں کی دمیں کسی بڑے گھڑیال کے پنڈولم کی طرح مسلسل حرکت کر رہی تھیں۔ ان کے پروقار انداز کودیکھ کر بچے بہت متاثر ہوئے۔ اب دو پھر ہو چکی تھی۔ بچے تھک گئے تھے اس لیے کہیں آرام سے بیٹھ کر کھانا کھانے کا پروگرام بنایا گیا۔ “سر کھانے کے بعد ہاتھی پر بیٹھیں گے نا خالد نے یاد دلایا۔” جی بیٹے ضرور ” سر نصیر نے مسکرا کر اسے تسلی دی۔ عمر نےبھی امی کی ہدایت کے مطابق جب اپنا لنچ باکس کھولا تو دوستوں کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ سب ہی آج اپنی ضرورت سےزیادہ کھانا لائے تھے اس لیے عمر کے دو کباب بچ گئے واپسی پر کھالوں گا اس نے یہ سوچ کر اطمینان سے لنچ باکس بند کر دیا۔دو پرھ ڈھل رہی تھی، اب سب ہاتھی پر سوار ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ چڑیا گھر کا ہاتھی چوں کہ بچوں سے بہت مانوس ہوتاہے اس لیے بچوں نے بھی اسے دیکھ کر ایک عجیب سی اپنائیت محسوس کی۔ سب بچوں کو چار چار کی ٹولیوں میں ہاتھی کی سواری کا موقع ملا۔ ہاتھی کے کان عمر کو بہت بھلے لگے۔ لیکن علی بھائی کی کتاب میں جو ہاتھی تھا اس کے تو دو بڑے بڑے دانت بھی تھے۔ وہکہاں گئے ؟ اسے تشویش ہوئی۔
اس کے دانت کیوں نہیں ؟ اس کے ذہن میں آنے والا سوال اس سے پہلے ہی نادر نے پوچھا۔ارے بھئی ہر ہاتھی کے دانت نہیں ہوتے۔ دانتوں والاہاتھی بہت قیمتی ہوتا ہے اور صرف ہندوستان یا افریقہ کے جنگلات میں پایا جاتا ہے ” سر نصیر نے بتایا۔
“دیکھو دیکھو اس کے منہ پر گھاس اُگی ہوتی ہے ” عمران نے عمر کو متوجہ کیا۔
و نہیں، گھاس نہیں ہے ، مٹی ہے ” عمر کو ہاتھی کے منہ پراگنے والی گھاس کا خیال بہت ہی عجیب لگا۔چلو عمر بیٹے آؤ ” سر عامر نے اسے پکارا۔ اب عمر ،عمران ، قمراور نادر کی ہاتھی پر سواری کی باری تھی۔ یہ ایک بہت ہی عجیب تجربہ تھا۔ ہاتھی چلتا تو یوں لگتا جیسے وہ اڑنے والے قالین پر بیٹھے ہوں اور نیچے دیکھتے تو سب لوگ بہت دور دکھائی دیتے۔ جب سب بچوں نےہاتھی پر سوار ہونے کی تفریح کر لی تو سر نصیر نے واپس چلنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ 5 بج چکے تھے۔ سب بچوں کو قطاروں میں کھڑا کیا جانے لگا۔
” اوہ میرا لنچ باکس ” عمر نے اپنی چیزیں ٹولیں تو یخ با کس کو غائب پا کرپریشان سا ہو گیا۔ ” شاید جہاں پانی پیا تھا ، وہاں رہ گیا یہ سوچ کر وہ پلٹا اور بھاگتا ہوا اس طرف چلا آیا جہاں اس کے خیال میں پانی کے تل لگے تھے، لیکن یہاں پانی کے نل نہ تھے اس طرف تو اس کے پسندیدہ زیبرے کھڑے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ پیچ باکس بھول کر ان کی دھاریوں میں کھو گیا۔ نہ جانے کتنی ہی دیر وہاں کھڑا رہا۔ پھراچانک چونک کر مڑا اور لنچ باکس کی تلاش میں دائیں ہاتھ مڑ گیا۔کھائی اترا تو سامنے شیر نظر آئے۔ شاید ہر شیر کی دھاریاں بھی مختلف ہوتی ہوں۔ ویسے شیر ہو تا بالکل مانو بلی جیسا ہے اس نے خود سے کہا اور پھر ساکت سا ہو کر شیروں پر نظر جمادی۔ بڑا سامنہ کھولے کھانا کھاتے شیر کو دیکھ کر اسے یوں لگا جیسے کوئی فلم دیکھ رہا ہو اچانک ایک خاتون اس سے ٹکرا ئیں تو اسے جیسے ہوش آگیا۔پتا نہیں میرا لنچ باکس کہاں ہے ؟”اچھا چلو چلتا ہوں واپس ” وہ واپسی کے لیے مڑا اور اپنی دانست میں گیٹ کی طرف بڑھا۔ لیکن یہ کیا ؟ سامنے تو وہی دوستانہ سا تاثر لیے ہاتھی صاحب کھڑے تھے۔ “اوہ ” اس نے خوشی سےمسکرا کر تالی بجائی۔ ہاتھی کا مہاوت بھی جو ابا مسکرا دیا۔ “انکل اس کی سونڈ کتنی لمبی ہے ؟ ” عمر نے اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا۔
پتا نہیں بیٹا، کبھی ناپی نہیں مہاوت نے جواب دیا۔یہ پانی کیسے پیتا ہے ؟ عمر نے پو چھا۔اپنی سونڈ سے ” مہاوت نے ہاتھی کی سونڈ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
اس سے ہاتھ ملاؤ گے ؟” مہاوت نے انتہائی دوستانہ اندازمیں پوچھا۔ ہاتھ اور کیسے ؟ عمر کچھ گھبرا سا گیا۔” ایسے بھئی ” اتنا کہ کر مہاوت نے کچھ اشارہ کیا تو ہاتھی نےاپنی سونڈ عمر کی طرف ہاتھ ملانے کے انداز میں بڑھادی۔”ہائے ” عمر کچھ ڈر کے ہنستا ہوا پیچھے بنا۔ “ڈرو نہیں کچھ نہیں کہے گا دوستی کرنا چاہتا ہے “مہاوت نے عمر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ عمر نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ ہاتھی کی سونڈ کی طرف بڑھا دیا۔ ہاتھی کی سونڈ بہت سخت تھی عمر کو بہت عجیب لگا۔
ارے! اذان کی آواز سن کر عمر چونک گیا۔ اذان کے وقت تو واپس جانا تھا۔ عمرو اپسی کو پلٹا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کےارد گر د ہلکاہلکا اندھیرا چھا رہا تھا اور چہل پہل بھی بہت کم ہو گئی تھی۔لوگ رفتہ رفتہ چڑیا گھر سے باہر جا رہے تھے۔ وہ بھی باہر جانے کا راستہ تلاش کرنے لگا ۔لیکن نجانے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا؟اند ھیرا اب اور بھی گہرا ہو چلا تھا۔ عمر بہت ڈر گیا۔ چڑیا گھر میں نصب چند روشنیاں جل اٹھیں ۔لیکن اس ہلکی روشنی میں اسے بڑے بڑے پنجروں اور گھنے درختوں سے اور بھی دہشت آنے لگی۔ وہ اندھیرے میں آگے بڑھا اور ایک جنگلے سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ جنگلے کے پیچھے کچھ سرسراہٹ ہوئی۔ وہ گھبرا کر ہٹا تو دیکھا، ایک نیل گائےجنگلے سے پرے اپنے باڑے کی طرف جارہی تھی۔ دوسری طرف اسے لمبے لمبے زرافوں کی گردنیں نظر آئیں لیکن اس وقت اسےان سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ وہ جلد از جلد اپنی بس تک پہنچنا چاہتا تھا تا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس گھر پہنچ سکے۔ اسے اب اپنے ارد گرد کوئی انسان نظر نہ آ رہا تھا۔ لیکن جنگل کے باشندے دن کی نسبت اب کچھ زیادہ پر شور ہو چکے تھے اور یہ اس کے لیے بہت ہی خوف ناک صورت حال تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ تمام جانور کچھ ہی دیر میں پنجروں سے باہر آجائیں گے۔ وہ گھبرا کر ایک روشنی کی سمت بھاگا تو نجانے کس چیز سے ٹکرایا اور گر گیا۔ اسی وقت جنگل کے بادشاہ نے ایک گونج دار آواز کے ساتھ دھاڑنا شروع کر دیا۔ عمر کادل اچھل کر حلق میں آگیا اور اس نے چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیا۔
غلام حسین غلام حسین یہ کون بچہ ہے ؟ اندھیرے میں ایک رعب دار آواز ابھری۔ عمر ابھی تک زمین پہ گرا گھٹنوں میں
منہ چھپائے رو رہا تھا۔ پھر ایک بڑی سی نارچ روشن ہوئی اور بھاری قدموں کی آواز اس تک آئی۔ ”دیکھیں یہ ننھا سا بچہ یہ کون ہے؟ ساتھ ہی دو مضبوط ہاتھوں نے اسے اٹھالیا۔” بیٹے” یہ کہ کر ایک صاحب نے عمر کو گود میں اٹھالیا اور شفقت سے اپنے ساتھ لگالیا” کتنی مرتبہ تم لوگوں کو سمجھایا ہے کہ
پھاٹک بند کرنے سے پہلے سارا چڑیا گھر دیکھا کرو کہیں کوئی بچہ یا کوئی آدمی اندر نہ رہ جائے ” انہوں نے اپنے ساتھ کھڑے دو چوکیداروں کو کہا۔ پھر وہ عمر کو گود میں لیے اپنے دفتر کی طرف بڑھ گئے۔عمر ابھی تک سسک رہا تھا۔ دفتر میں پہنچ کر انہوں نے عمر کو کرسی پر بٹھادیا اور اسے چپکارتے ہوئے بولے ” بیٹے رونا بند کرو”
اتنے میں ایک چوکی دار گلاس میں پانی لے آیا۔ ”لو پہلے پانی پیو” انہوں نے عمر سے کہا۔ عمر نے دونوں ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر فٹافٹ سارا پانی پی لیا۔ “اچھا اب بتاؤ تمہارا کیا نام ہے؟” ان صاحب نے عمر کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔جی عمر ” عمر رندھی ہوئی آواز میں بولا۔
تمہارا گھر کہاں ہے ؟ انہوں نے سوال کیا۔گھر ۔۔۔میرا گھر۔۔۔ مرید کے “عمر پھر سے رونے لگا۔
” مرید کے ؟” انہوں نے تشویش سے کہا۔ پھر بولے “ہاں، ہاں “ آج بچوں کا ایک اسکول مرید کے سے یہاں سیر کو آیا تو تھا وہ عمرکی یونی فارم کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ پھر وہ ٹیلی فون کی طرف بڑھے۔ نمبر ملانے کے بعد سلام کیا اور کہنے لگے ” جناب آج پھرایک بچہ مرید کے کے اسکول کا یہاں رہ گیا ہے۔ اس وقت تو میں اس ننھے بچے کو اپنے ساتھ ہی گھر لے جا رہا ہوں۔ صبح 7 بجے سے پہلے اس کے اسکول میں اطلاع کرنا ہو گی ” پھر کچھ دیر کے لیے رکے اورمڑکر عمر سے پوچھا ” تمہارے اسکول کا کیا نام ہے ؟”
”نیو اسکول ”عمر نے جواب دیا۔جی، جی اسکول کا نام تو معلوم ہو گیا ہے۔ اب آپ ذرا نمبرمعلوم کروا ئیں یہ کہ کر انہوں نے فون بند کر دیا ۔”دیکھو عمر کو میں اپنے ساتھ گھر لے جا رہا ہوں ، اگر اس کے گھر سے کوئی بھی آئے، چاہے رات کا کوئی بھی پھر ہو تم فوراً ا نہیں میرے ہاں لے آنا ہے۔ خبردار جو اس سلسلے میں رتی برابر بھی لا پروائی کی تو انہوں نے بہت سختی سے چوکی داروں کو مخاطب کیا۔
” آؤ عمر بیٹے گھر چلیں ” وہ بہت اپنائیت سے عمر کاہاتھ پکڑتے ہوئے بولے۔ پھر انہوں نے عمر کو اپنے پیچھے اسکوٹر پر بٹھایا اور بولے ،بیٹے دھیان سے بیٹھنا۔ بس ہم کچھ ہی دیر میں گھر پہنچ جائیں گے۔وہاں تمہارے دو بہن بھائی ،خالہ اور دادی جان بھی ہیں ۔
عمر نے جواباً صرف اپنا سر ہلا دیا ۔ گھر پہنچے تو سامنے پکا صحن تھا۔برآمدے میں ایک بوڑھی خاتون چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ ان کےبرابر ایک ننھا بچہ بیٹھاٹا نگیں ہلا رہا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی وہ پھدک کر چارپائی سے اترا اور “ابو ” کہ کر ان صاحب سے لپٹ گیا۔ پھر حیرت سے عمر کی طرف دیکھنے لگا۔
عمر یہ حسن ہے ، میرا بیٹا۔ یہ ابھی اسکول نہیں جاتا۔ آؤ باقی لوگوں سے میںہ ” وہ اسے لے کر بر آمدے کی طرف بڑھے اور بوڑھی خاتون کو سلام کر کے ان کے برابر ہی بیٹھ گئے۔اماں !یہ عمر ہے ” انہوں نے کندھوں سے پکڑ کے اماں کے سامنے کیا۔ پھر بولے ” یہ اپنے اسکول کے ساتھ چڑیا گھر کی سیر کو آیا تھا۔ لیکن پتا نہیں کیوں اور کیسے یہیں رہ گیا”۔
کوئی بات نہیں ، ابھی بیٹے کے امی ابا آجائیں گے۔ اور اگرآنے میں کچھ دیر ہو گئی تو یہ ہمارے پاس رہ لے گا اماں نے بہت شفقت سے کہا۔عمر آنسو بھری آنکھوں سے انہیں دیکھتا رہا۔ اتنے میں ایک موٹی تازی خاتون تولیے سے ہاتھ صاف کرتی بر آمدے میں آئیں۔یا اللہ یہ آج پھر کوئی ظالم ننھے بچے کو بھول گیا”۔ وہ ہر چیز کو نظرانداز کرتے ہوئے عمر کی طرف بڑھیں۔ عمر پھر رونے لگا۔نہیں نہیں میرے بیٹے خاتون نے عمر کو اپنی گود میں اٹھالیااور چمکارنے لگیں۔ اتنی دیر میں وہ صاحب منہ ہاتھ دھو کر آگئے۔ان کے ہمراہ ایک دس گیارہ سال کی بچی بھی تھی۔ عمر کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بڑھی۔ “اچھا یہ ہے عمر جو کھو گیا ہے۔ کوئی بات نہیں عمرا بھی تمہیں لینے تمہارے ابو آجائیں گے “وہ بولی۔

میرا گھر تو بہت دور ہے مرید کے عمر پہلی مرتبہ بولا۔مرید کے حسن کی امی اور دادی دونوں ہی سٹ پڑا گئیں۔ہاں اماں، یہ بھی تو مشکل ہے۔ خیر میں نے اس کے اسکول کا نمبر نکلوانے کو کہ دیا ہے۔ اچھا چلو اب کھانا کھا لیں ” ان صاحب نے کہا تو وہ خاتون عمر کو دونوں بچوں کے برابر چار پائی پر بٹھا کر باورچی خانے میں چلی گئیں۔
عمر!یہ تمہاری بہن عذرا ہے”۔ اسے گم سم دیکھ کر دادی جان بولیں ” اچھا یہ تو بتاؤ تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں ؟”
” بس علی بھائی ہے ” عمر نے سر جھکائے جھکائے دبی آواز میں جواب دیا۔ اتنے میں خالہ کھانا لے آئیں۔ سب نے بیٹھ کر کھاناشروع کیا۔ دادی جان نے ننھے حسن کو اپنی گود میں بٹھا لیا جب کہ عمرکو خالہ نے اپنے ساتھ بٹھایا۔ وہ بہت پیار سے عمر کو کھانا کھلانےلگیں۔ لیکن عمر بمشکل چند نوالے ہی کھا سکا۔ اسے رو رہ کر اپنی امی یاد آرہی تھیں۔ ابھی کھانا ختم کیا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔یہ شاید دفتر سے کوئی آیا ہو گا یہ کہتے ہوئے وہ صاحب دروازے تک گئے۔احمد علی صاحب ، مرید کے سے بچے کے اسکول سے فون آگیا ہے، میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ بچہ ہمارے سپروائزر صاحب کے ہاں ہے۔ انہوں نے یہ اسکول کا نمبر بھی دیا ہے ” چوکی دار کی آواز سنائی دی۔”یا اللہ تیرا شکر ہے ” دادی جان بولیں۔ احمد علی صاحبواپس آئے تو مسکرا رہے تھے۔ “چلو بھئی عمر میاں اسکول سے فون آگیا ہے ” انہوں نے عمر کو مخاطب کیا ” اچھا میں ذرا اسکول فون کر کے آتا ہوں ” وہ خالہ سے مخاطب ہوئے۔ ” عمرا بھی یہیں رکے گا”
یہ کہ کر انہوں نے اپنی ٹوپی اٹھائی اور باہر نکل گئے۔عمر کو اب کچھ اطمینان سا ہوا اور بولا “خالہ پانی پیناہے”۔
عذرا جھٹ اٹھی اورباورچی خانے سے پانی کا گلاس لے آئیں۔ عمر نے ابھی آدھا گلاس ہی پیا تھا کہ دادیجان بولیں ” بس بیٹا” پھر اس کے ہاتھ سے گلاس لے کربولیں اس کو دودھ پلا دو،کھانا تو اس نے کھایا ہی نہیں ” ان کی بات سن کر عمر کو یک دم اپنا لنچ باکس اور ،لنچ باکس میں پڑے کباب یاد آگئے۔ اس کے گلے میں پھر کچھ اٹکنے لگا لیکن پھر جب خالہ نے اسے بہت پیار سے دودھ کا پورا کپ پلایا توکچھ جان میں جان آئی۔ اتنی دیر میں احمد علی صاحب واپس آگئے۔ان کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا ” مبارک ہو تمہارے ابا جان اور ہیڈماسٹر صاحب تمہیں لینے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں انہوں نے عمر کوبتایا۔ابو آ رہے ہیں ؟ عمر کھڑا ہو کر بولا۔
عمر آؤ میں تمہیں ایک کہانی سناؤں تب تک تمہارے ابوبھی آجائیں گے ” عذرا اسے اندر لے جاتے ہوئے بولی۔ٹھہر و !عذرا میں پہلے تم بچوں کے بستر ٹھیک کرلوں۔ عمر بہت تھکا ہوا ہے” یہ کہ کر خالہ اندر چلی گئیں۔ بستر پر لیٹنے سے پہلےخالہ نے غسل خانے میں لے جا کر عمر کے منہ ہاتھ اچھی طرح دھلوائے اور پھر اسے عذرا کا ہی آسمانی رنگ کا سوٹ پہنا دیا۔ عمررات کی رات بہن کے کپڑے ہی پہن لو۔ یہ آرم دہ ہیں۔ تمہاری یونی فارم تو سارے دن میں بہت میلی ہو چکی ہے ” وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔ جب عمر ننھے حسن کے ساتھ بستر میں لیٹنے لگا تو عذراہنسے لگی۔ اسے ہنستاد یکھ کر عمر اور حسن بھی کھل کھلا اٹھے۔
“چلو اب کہانی سنیں عذرانے کتاب اٹھاتے ہوئے کہا۔ پھر عمر سے پوچھنے لگی “کون سی کہانی سنو گے۔ جل پری کی یا شرارتی خرگوش کی؟”
” جل پری والی ” عمر نے شوق سے جواب دیا۔ لیکن ابھی عذرا نے چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ عمراونگھتے اونگھتے سو گیا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ ننھا حسن بھی سو گیا۔رات کے 10 بجے کے قریب احمد علی صاحب اپنی والدہ اوربیگم کے ساتھ برآمدے میں بیٹھے عمر کے والد کا انتظار کر رہے تھے۔اللہ کرے بچے کے ماں باپ خیریت سے آجائیں۔ ننھی سی جان پتا نہیں ساتھ آنے والوں کو ہوش نہیں ہوتا ” خالہ نے تاسف سے کہا۔
بالکل اگر گروپ بہت بڑا ہو تو وقتی طور پر کوئی بچہ نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے مگر یہ تو صرف 32 بچوں کا گروپ تھا اورساتھ میں چار اساتذہ تھے ۔ کمال کی بات ہے چار ذمہ دارا فراد 32 ننھے بچوں کا خیال نہیں رکھ سکے ” احمد علی صاحب نے اپنی بیگم کی تائید کی۔ اسی لمحے اطلاعی گھنٹی بجی۔
“شاید آگئے، یہ کہتے ہوئے احمد صاحب دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے چوکی دار کے ساتھ انتہائی پریشان حال دو صاحبان کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک بولا ” احمد علی صاحب میں عمر کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر عبد الکریم ہوں اور یہ عمر کے والد سلام خان صاحب ہیں”۔
جی جی ” احمد علی صاحب نے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔” میرا بیٹا کہاں ہے ؟” سلام صاحب نے احمد علی صاحب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔اطمینان رکھیے سلام صاحب عمر سو رہا ہے ” احمد علی صاحب نے کہا۔ پھر ان کی نظر چو کی دار کے برابر کھڑے ایک اور شخص پر پڑی۔ وہ بھی اندر آگیا۔ ” آپ بہت بھلے آدمی ہیں۔ ہم کس طرح آپ کا شکریہ ادا کریں ” ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا۔شکریے کی بات نہیں۔ چڑیا گھر کا راؤنڈ لینا میرے فرائض میں شامل ہے ، لیکن یہ بتائیں کہ آپ کے اساتذہ کیا اپنے فرائض سے بے خبر ہیں ؟ چار باہوش بالغان اور صرف 32 ننھے بچے، شکر کریں کہ عمر اور اس کے والدین پر اللہ نے کرم کیا اور مجھے راؤنڈ کے دوران میں عمر روتا ہوا مل گیا۔ اگر یہ کسی اندھیرے کونے میں ہی رہ جاتا تو جانتے ہیں آپ؟ بچے خوف سے جان بحق بھی ہو سکتے ہیں “احمد علی صاحب کی آواز قدرے بلند ہو چکی تھی۔
سُن رہے ہیں آپ تو قیر صاحب” ہیڈ ماسٹر صاحب نے مڑ کر تیسرے شخص کو مخاطب کیا۔ توقیر صاحب سرجھکائے خاموش کھڑے رہے۔ آپ کی اس لا پروائی پر آپکو معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے والدین اسکول کی انتظامیہ پر اعتماد رکھتے ہیں تو ہی اپنے بچوں کو تفریحی دوروں پر اسکول کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ آپ نے ویسے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے” ہیڈ ماسٹر صاحب بھی اب غصے میں آچکے تھے۔
جی وہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی” تو قیر صاحب نے آہستہ سے کہا۔”طبیعت خراب تھی تو عرضی دے دیتے تاکہ کسی اور
استاد کو بھیجا جاتا” ہیڈ ماسٹر صاحب نے تو قیر صاحب کو غصےسے گھورتے ہوئے کہا۔” براہ مہربانی اس بحث کو اس وقت چھوڑیے اور میرابچہ میرے حوالے کریں، اس کی ماں پریشانی سے نڈھال ہو کی” سلام صاحب نے احمد صاحب کو کہا تو وہ کمرے میں سوتے ہوئے عمر کو گود میں لیے باہر لے آئے۔ سلام صاحب نے لپک کر بیٹے کو پکڑ لیا جو ممکن سے نڈھال گہری نیند سو رہا تھا۔ انہوں نے عمر کو سینے سے لگا لیا اور کہا ”بہت بہت شکریہ آپ کا آپ تو میرے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے ہیں۔ میں عمر کی والدہ کے ساتھ کل ہی آپ کا شکریہ ادا کرنے آؤں گا”۔
کیسی باتیں کرتے ہیں؟ یہ میرے اپنے بچوں کی طرح ہے۔ اب آپ جلدی سے گھر کے لیے روانہ ہوں۔
عمر کی امی اسے یاد کرتی ہوں گی” احمد علی صاحب نے سلام صاحب کا کندھا تھپ تھپاتے ہوئے کہا اور پھر وہ تینوں عمر کوساتھ لے کر وہاں سے مرید کے کے لیے روانہ ہو گئے۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here