فرعون کا خزانہ ———— یونس حسرت

0
28

قدیم مصری بادشاہ ، جن کا لقب فرعون تھا ، جس طرح شان و شوکت کے لحاظ سے بے مثال تھے، اسی طرح اُن کے خزانے بھی اپنا جواب آپ تھے۔ سونے چاندی کے جتنے ڈھیر ان بادشاہوں کے خزانے میں تھے، دوسرے بادشاہ اُن کاتصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔جب مصر کا یہ شاہی خزانہ شہنشاہ ریمفس کے قبضے میں آیا تو وہ اسے دیکھ کر اس قدر حیران ہوا کہ اس کی حفاظت کا خیال اُسے پریشان کرنے لگا، اور اس نے سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ شاہی خزانے کی حفاظت کے لیے محل کے برابر ایک کمرا تعمیر کیاجائے۔ اس کمرے کی تعمیر کے لیے اس نے ایک ایسے راج کو چنا جو اپنے کام میں بڑی مہارت رکھتا تھا ۔ چند ہی دنوں میں راج نے شاہی محل کے برابر ایک کمرا تیار کر دیا جو سارے کا سارا پتھر کا بنا ہوا تھا۔ اس کمرے کا صرف ایک دروازہ تھا جو شاہی محل میں بادشاہ کے خاص کمرے میں کھلتا تھا اور اُس کی چابیاں صرف بادشاہ کے پاس رہتی تھیں ۔ کمرے کے مکمل ہوتے ہی بادشاہ ریمفس نے تمام شاہی خزانہ اس میں رکھوا دیا۔ اب اُسے اُس کی حفاظت کے بارے میں پورا اطمینان تھا۔جس راج نے یہ کمرا بنایا تھا، وہ کافی بُوڑھا ہو چکا تھا۔ چندسال بعد وہ بیمار ہو گیا اور جب اُسے اپنے زندہ بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو خزانے کے اس راز سے آگاہ کر دیا جو اب تک اس کے سینے میں محفوظ تھا۔
راج نے اپنے بیٹوں کو بتایا :شاہی خزانے کا ایک دروازہ تو وہ ہے جو شاہی محل میں کھلتا ہے، لیکن میں نے اس کا ایک اور خفیہ دروازہ بھی بنایا ہے، جسے پتھروں کو ایک خاص طریقے سے سرکانے پر کھولا جاسکتا ہے۔ اس دروازے کا علم صرف مجھے ہے، اور کسی کو نہیں یہ کہ کر راج نے شاہی خزانے کا نقشہ انہیں سمجھایا ، پھر خفیہ دروازہ کھولنے کی ترکیب بتائی اور اس کے بعد کہنے لگا : میں نے یہ خفیہ دروازہ تمہارے لیے بنایا تھا۔ اب تم جب چاہوخزانے میں داخل ہو سکتے ہو، اور وہاں سے ہر وہ چیز حاصل کرسکتے ہو جس کی تمہیں ضرورت ہو ۔ بیٹوں کو اس راز سے آگاہ کرنے کے چند روز بعد راج اس دُنیا سے رُخصت ہو گیا ۔ اسی رات اس کے دونوں بیٹے خزانے کے کمرے کے پاس اس جگہ گئے جس کے متعلق ان کاباپ انہیں بتا گیا تھا اور جب انہوں نے باپ کی بتائی ہوئی ترکیب کے مطابق پتھروں کو سر کایا تو دیوار میں ایک دروازہ پیدا ہوگیا ۔ ان کے سامنے سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے ڈھیر لگے تھے۔وہ کچھ دیر حیرانی سے سونے چاندی کے ان ڈھیروں کودیکھتے رہے اور پھر کچھ ہیرے ، سونا اور قیمتی کپڑوں کے چندتھان لے کر باہر نکل آئے ۔ انہوں نے باپ کی بتائی ہوئی ترکیب کے مطابق دوبارہ پتھر سر کائے تو دروازہ بند ہو گیا اور دیوار پہلے کی طرح برابر ہو گئی ۔ اس کے بعد وہ ہر تیسرےچوتھے دن آکر شاہی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔ وہ بہت خوش تھے کہ اُن کا باپ انہیں ایک ایسی ترکیب بتا گیا ہے جس سے بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ راج کے بیٹوں کی ان کارروائیوں کو زیادہ دن نہ گزرنے پائے تھے کہ ایک روز بادشاہ ریمفس شاہی خزانے کا معائنہ کرنے آیا۔ ایک نظر دیکھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ خزانے میں سے کچھ سونا اور دوسری قیمتی چیزیں غائب ہیں ۔ وہ بہت حیران ہوا ۔ خزانے کا صرف ایک ہی دروازہ تھا جو شاہی محل میں کھلتا تھا اور اس دروازے کی چابیاں خود اُس کے پاس رہتی تھیں! شہنشاہ ریمفس سار ادن یہی سوچتا رہا کہ چور کو کس طرح پکڑا جائے ۔ آخر اس کے دماغ میں ایک ترکیب آگئی ۔ اس نے خزانے میں لوہے کا ایک پھندا لگوا دیا ۔ یہ پھندا اُن صندوقوں کے درمیان لگایا گیا تھا جن میں۔ قیمتی ہیرے جواہرات ، سونے چاندی کے سکے اور برتن رکھے ہوئےتھے ۔ اگلی بار جب ریمفس شاہی خزانے کے معائنے کے لیےآیا تو اس نے دیکھا کہ پھندے میں ایک آدمی پھنسا ہوا ہے۔ وہ خوشی خوشی آگے بڑھا کہ اُس کی ترکیب کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ مگر جب وہ پھندے کے قریب آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پھندے میں پھنسا ہوا آدمی زندہ نہیں، مردہ ہے۔ یہی نہیں، اُس کا سر بھی غائب ہے، اور سر غائب ہونے کی وجہ سے اس کی شناخت نہیں ہو سکتی تھی۔ہوا یہ تھا کہ راج کے بیٹے ایک رات شاہی خزانے میں داخل ہوئے تو بڑا بیٹا سیدھا اُن صندوقوں کی طرف بڑھا جن کے درمیان پھندا لگا ہوا تھا اور اس طرح وہ پھندے میں جکڑا گیا ۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ بڑے بھائی نے یہ دیکھا تو چھوٹے سے کہنے لگا :پیارے بھائی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو خزانےکے چوری ہونے کا پتا چل گیا ہے ۔ تب ہی اس نے یہ پھندا لگایا ہے ۔ اب میں تو بد قسمتی سے پھنس گیا ہوں، لیکن تم اپنی جان بچانے کی فکر کرو ۔ چھوٹے بھائی نے کہا : میں تمہیں اِس حال میں چھوڑ کرکیسے جا سکتا ہوں ؟
بڑے بھائی نے کہا : بے وقوف نہ بنو ، اور جو میں کہتا ہوں وہی کرو۔ موت میرا مقدر بن چکی ہے ۔ چاہے یہاں آئے یا پھانسی کے تختے پر ۔ لیکن اگر میں پادشاہ کے ہتھے چڑھ گیاتو اس کے سپاہی مار مار کر مجھ سے سب کچھ اگلوالیں گے ۔اس لیے تم یوں کرو کہ میر اسر کاٹ کر لے جاؤ ۔ اس طرح بادشاہ کو پتا نہیں چل سکے گا کہ پھندے میں پھنسا ہوا شخص کون ہے؟ تم بچ جاؤ گے۔چھوٹے بھائی کا دل تو نہیں چاہتا تھا ، لیکن بڑے بھائی نے آخر کار اسے راضی کر ہی لیا ۔ ناچار اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر بڑے بھائی کا سر کاٹا اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کرواپس آگیا ۔ماں نے اپنے بیٹے کا سر دیکھا تو رونے پیٹنے لگی۔چھوٹے بھائی نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ رونے پیٹنے کےبجائے صبر اور حوصلے سے کام لو ، ورنہ جو انجام میرے بڑے بھائی کا ہوا ہے، وہی میرا بھی ہو سکتا ہے۔ ماں کلیجے پر پتھر رکھ کر خاموش ہو گئی ۔شہنشاہ ریمفس سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چور اس کی ترکیب کو یوں نا کام کر دے گا ۔ وہ ہر قیمت پر اس کا سراغ لگانا چاہتا تھا۔ چناں چہ اس نے حکم دیا کہ سر کٹی لاش کو شاہی محل کے باہر لٹکا دیا جائے ۔ اُس نے اس لاش کے ارد گرد چندسپاہی پہر دار کھڑے کر دیے اور انہیں تاکید کر دی کہ لاش کے قریب سے گزرنے والے ہر شخص پر نگاہ رکھیں اور جو شخص اس کے قریب روتا پیٹتا یا ماتم کرتا پایا جائے ، اُسے گرفتار کر لیں۔اُس زمانے کے مصریوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک کسی شخص کی موت کی رسمیں ادانہ کر دی جائیں ، تب تک اس کی رُوح کو چین نصیب نہیں ہوتا۔ اس لیے بادشاہ کو یقین تھا کہ سر کٹی لاش کے وارث اسے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرنےکو تیار ہو جائیں گے ۔بادشاہ نے ٹھیک ہی سوچا تھا۔ ماں کو جب یہ خبر ملی کہ اُس کے بڑے بیٹے کی سرکشی لاش شاہی محل کے باہر لٹکی ہوئی ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اپنے بھائی کی لاش وہاں سے لے آئے تاکہ اسے رسموں کے مطابق دفن کیا جا سکے۔ یہ سُن کر وہ دنگ رہ گیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ لاش کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا، موت کو دعوت دینا ہے۔ لیکن ماں اپنی ضد پر اڑی رہی اور اس نے دھمکی دی کو اگر تم لاش نہیں لاؤگے تو میں بادشاہ کے پاس جاکر اسے سب کچھ بتادوں گی۔ ماں کی اس دھمکی کے آگے چھوٹے بھائی نے ہتھیار ڈال دیے۔سر کٹی لاش کو شاہی محل کے باہر لٹکے ہوئے کئی روز گزرگئے تھے۔ پہرے دار اُس کے پاس سے گزرنے والے ہر شخص کو بڑے غور سے دیکھتے تھے، لیکن ابھی تک انہیں کوئی ایساشخص نظر نہیں آیا تھا جو روتا پیٹتا ، ماتم کرتا، اس کے پاس سےگزرا ہو۔دوسرے روز ایک نوجوان دو گدھوں کو ہانکتا ہوا وہاں سے گزرا۔ گدھوں پر پانی کے چند مشکیزے لدے ہوئے تھے۔ وہ گدھوں کو لے کر لوگوں کے اس ہجوم کے پاس سےگزرا جو سر کٹی لاش کا تماشا دیکھ رہا تھا تو ایک گدھے پر لدے ہوئے پانی کے ایک مشکیزے کا منہ کھل گیا اور پانی بہ نکلا ۔نوجوان اس مشکیزے کا منہ باندھ ہی رہا تھا کہ دوسرے گدھےپر لدے ہوئے مشکیزے کا منہ کھل گیا ۔ نوجوان پہلےمشکیزے کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف لپکا اس افراتفری میں سارے مشکیزے کھل گئے اور وہاں دریا سا بہنے لگا ۔لوگ جو سر کٹی لاش کو دیکھ رہے تھے ، ان کو ایک شغل ہاتھ آگیا ، اور وہ نوجوان سے ہمدردی کرنے کے بجائے ہنستے اورقہقہے لگاتے ہوئے چلو بھر بھر کر پانی پینے لگے ۔ نوجوان پہلے توپانی کے اس طرح ضائع ہونے پر منہ لٹکائے کھڑا رہا، پھر وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح ہنسنے اور قہقہے لگانے لگا۔اُس کے تمام مشکیزے خالی ہو گئے تھے۔ صرف ایک مشکیزہ بچا تھا۔ اُس نے وہ مشکیزہ اُن سپاہیوں کو پیش کر دیا جو لاش کے پاس پہرا دے رہے تھے۔ سپاہی صبح سے بھوکےپیاسے تھے۔ وہ ندیدوں کی طرح مشکیزے پر ٹوٹ پڑے اوردیکھتے ہی دیکھتے اُسے خالی کر دیا۔ یہ بات صرف اُس نوجوان ہی کومعلوم تھی کہ پانی میں بے ہوشی کی دوا ملی ہوئی ہے۔رات کا وقت ہوا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔ صرف لاش کے پاس سپاہیوں کے خراٹے سُنائی دے رہے تھے۔نوجوان پہلے ہی سے اس موقع کی تاک میں تھا۔ اُس نے رسیاںکاٹ کر لاش اُتاری اور اُسے گدھے پر لاد کر چلتا بنا۔ اگلی صبح ریمفس کو یہ اطلاع ملی کہ محل کے باہر جو سرکیخ لاش لٹکائی گئی تھی، اُسے کوئی انتظار کر لے گیا ہے اور سارےپہرے دار بے ہوش پڑے ہیں تو اس کی آنکھوں میں خُون اُترآیا۔ مگر اس غصے کی حالت میں بھی وہ دل ہی دل میں اُس شخص کی ذہانت کی داد دے رہا تھا جو سپاہیوں کو بے ہوش کر کے لاش لے گیا تھا ۔اب بادشاہ سوچ رہا تھا کہ اس چالاک شخص کو کیسے گرفتار کیا جائے۔ کئی دنوں تک وہ اسی ادھیڑ بن میں رہا ، مگر کوئی ترکیب ذہن میں نہ آسکی ۔ آخر اس کی بیٹی نے اس کی مشکل آسان کر دی ۔ شہنشاہ ریمفس کی بیٹی حسین و جمیل ہونے کےساتھ ساتھ بے حد عقل مند بھی تھی ۔ اس کی تجویز شہنشاہ کوپسند آگئی دوسرے روز بادشاہ کی طرف سے سارے ملک میں اعلان کر دیا گیا کہ :ہم اپنے ملک کے نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ شاہی محل میں آئیں اور شہزادی کو اپنے اپنے کارناموں کی داستان سُنائیں۔ جس نوجوان کا کارنامہ شہزادی کو پسند آئےگا اُسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔شہنشاہ ریمفس کو امید تھی کہ انعام کے لالچ میں دوسرے نوجوانوں کے علاوہ وہ نوجوان بھی شہزادی کے پاس آئے گا جو لاش چُرا کر لے گیا تھا، اور اس طرح خزانے کی چوری کے راز سے پردہ اُٹھ سکے گا۔ اس نے شہزادی کے کمرے کے باہر ، برآمدے میں چند سپاہی بٹھا دیے تھے اور انہیں حکم دیاتھا کہ جوں ہی شہزادی چیخ مارے، وہ کمرے میں گھس کرشہزادی کے پاس بیٹھے ہوئے نوجوان کو گرفتار کر لیں۔بہت سے نوجوان شہزادی کو اپنے اپنے کارناموں کی داستانیں سنانے آئے ۔ شہزادی اُن کی بہادری ، دانائی ، چالاکی اور ہوشیاری کی داستانیں سنتی اور انہیں واپس بھیج دیتی، کیوں کہ اُسے ان داستانوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی ایک دن، شام کو ایک نوجوان شاہی محل میں آیا، اور شہزادی سے کہا شہزادی صاحبہ میری داستان بہت دل چسپ اور حیرت انگیز ہے ۔ اگر آپ اس سے پورے طور پر لطف اُٹھانا چاہتی ہیں تو محل کی تمام بتیاں گُل کروا دیں۔شہزادی نے محل کی تمام بتیاں گل کرا دیں اور نوجوان نے اپنا کارنامہ بیان کرنا شروع کیا: میں نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ خُفیہ دروازے سے داخل ہو کر شاہی خزانے سے سونا چاندی اور دوسری چیزیں چوری کی تھیں۔ جب میرا بھائی خزانے میں لگائے ہوئے پھندے میں پھنس گیا تو میں اُس کا سر کاٹ کر لے گیا اور پھرمیں ہی شاہی محل کے باہر سے اس کی لاش اُتار کر لے گیاتھا۔شہزادی نے ایک چیخ ماری۔ یہ بر آمدے میں چھپےہوئے سپاہیوں کے لیے اشارہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی شہزادی نے نوجوان کا بازو سختی سے تھام لیا، لیکن اسے یوں محسوس ہواجیسے نوجوان کا بازو بہت سخت اور ٹھنڈا ہے۔ سپاہی لیے کمرے میں آئے تو شہزادی کے مُنہ سے ایک مرتبہ پھر چیخ نکل گئی ۔ اس نے لکڑی کا بنا ہوا بازو تھام رکھا تھا اور نوجوانکھڑکی سے چھلانگ لگا کر بھاگ گیا تھا۔شہنشاہ ریمفس کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حیرت زدہ رہ گیا ۔ یہ شخص تو اس کی توقع سے بھی زیادہ ذہین اور چالاک نکلا۔ اس کی ذہانت نے ریمفس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب ہو گیا کہ اس غیر معمولی ذہانت اور چالاکی کا مالک کون نوجوان ہے؟
دوسرے دن اس نے سارے ملک میں ایک اعلان کرایا۔ اس اعلان کے ذریعے اس نوجوان کو معافی دے دی گئی تھی جس نے شاہی خزانے میں چوری کی تھی اور پھر لاش بھی اُٹھا کر لے گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وہ شخص بادشاہ کے حضور پیش ہو جائے گا تو اُسے بھاری انعام دیا جائے اعلان کے چند روز بعد وہ نوجوان شاہی محل میں آیا اورشہنشاہ ریمفس سے ملاقات کی درخواست کی۔ جب اسے شہنشاہ کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے ادب سے جھک کر سلام کیا اور ساری داستان شروع سے آخر تک سُنا دی ۔ شہنشاہ ریمفس شہنشاہ ریمفس نے خوش ہو کر کہا:اہل مصر دنیا کی ذہین ترین قوم ہیں ، لیکن بلاشک وشبہ یہ نوجوان تمام مصریوں میں سب سے زیادہ ذہین ہے۔ “ اورپھر اس نے اپنی بیٹی کی شادی راج کے اس بیٹے کے ساتھ کردی۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here