علم کی شمع ——— تحریر : کاشف بشیر کاشف

0
88

کیاتُو نے اپنے حصے کی شمع جلائی؟
ماسٹر صاحب نے نواز صاحب سے پوچھا۔
کون سی شمع ماسٹر صاحب؟نواز صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
یقیناً تو غافل ہے۔ تو نے وہ دیا روشن ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔نہیں کیا روشن تو نے۔۔۔یہ سکھایا تھا میں نے تجھے۔۔۔۔ماسٹر صاحب کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتے نواز صاحب کی آنکھ کھل گئی۔ ان کی پیشانی نم آلود تھی۔ آج تین دن ہو گئے تھے اور وہ ہر رات مسلسل یہی خواب دیکھ رہے تھے۔ان کی آہٹ پا کر ان کی بیگم بھی بیدار ہو گئیں تھیں۔
کیا ہوا نواز صاحب؟ کیا پھر وہی خواب دیکھ لیا؟ بیگم صاحبہ نے تپائی پر پڑے ہوئے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے پوچھا۔
ہاں! پھر وہی خواب۔۔۔۔نواز صاحب نے پانی پیتے ہوئے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔
عجیب اتفاق ہے کہ مجھے یہ عہدہ سنبھالے تین دن ہوئے ہیں اور تین دن سے ہی یہ خواب!خدا جانے کیا ماجرا ہے؟ میرے مرحوم استاد صاحب مسلسل خواب میں آرہے ہیں۔شاید۔۔۔۔۔
نواز صاحب بول رہے تھے کہ اچانک رک گئے۔
یقیناً ،یہ میرے استادِ محترم ہی ہیں۔شاید میں اپنا کوئی فرض بھول رہا ہوں۔اس بار نواز صاحب کے لہجے میں یقین کا عنصر نمایاں تھا۔
یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟بیگم نواز نے سوال کیا۔
یہ سکھایا تھا میں نے تجھے؟ ان کا یہ جملہ اس بات کا عکاس ہے۔ یقیناً مجھ سے کوئی بھول ہوئی ہے یا میں کوئی فرض فراموش کربیٹھاہوں۔نوازصاحب افسردگی سے بولے۔
آپ نے کبھی اپنے فرض سے غفلت نہیں برتی ، آپ ذہن پر زور نہ ڈالیں اور سو جائیں۔اللہ بہتر کرے گا۔ بیگم صاحبہ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔
نواز صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور لیٹ گئے تھوڑی ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو چکے تھے۔

آج کی ڈاک میں خود دیکھوں گا۔آپ خطوط کی فائل مجھے دے جائیں۔نواز صاحب نے دفتر پہنچ کر اپنے سیکرٹری کو حکم دیا۔وہ اس ضلع میں بطور ڈی سی او تعینات ہوئے تھے اور تین دن پہلے ہی انھوں نے یہاں اپنا منصب سنبھالا تھا۔ اس سے پہلے وہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے ضلع میں بطور اسسٹنٹ کمشنر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ دوران ملازمت انھوں نے ہمیشہ ایمانداری اور لگن کو پیشِ نظر رکھا تھا۔یہی وجہ تھی کہ وہ عام لوگوں میں بہت مقبول تھے۔یہاں تعیناتی کے بعد مسلسل انھیں خواب آرہا تھا۔جیسے وہ اپنا کوئی فرض بھول گئے ہوں۔نواز صاحب نے اپنے معمولات کا جائز ہ لیاتو انھیں اپنے کام میں کوئی غفلت نظر نہ آئی مگر اپنی بیگم سے مشورے کے بعد انھوں نے اپنے دفتر میں غیر معمولی انداز اپنانے کا فیصلہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آج وہ خطوط خود دیکھنا چاہتے تھے ورنہ معمول تو یہی تھا کہ ان کا سیکرٹری روزانہ موصول ہونے والی ڈاک میں سےاہم نوعیت کے خطوط منتخب کر کے ان کے پاس لے آتا اور وہ ان پر مناسب کارروائی کرتے ہوئے خطوط اسے واپس کر دیتے۔ دفتر کا سارا عملہ نواز صاحب کے غیر معمولی انداز سے پریشان تھا۔انھوں نے ضلع بھر کے دوروں کا پروگرام بھی خود مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔

’’گامی‘‘ کا نام تو غلام محمد تھا مگر گاؤں کے سب چھوٹے بڑے اُسے گامی ہی کہتے تھے۔اُس کا گاؤں ’’جھلّا پنڈ‘‘شہر سے میلوں دور ایک ٹوٹی پھوٹی ذیلی سڑک پر واقع تھا۔گامی دو سال کا تھا جب اس کے ابا کو چودھری فضل حسین کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے سانپ نے ڈس لیا۔ گائوں میں ہسپتا ل تو تھا نہیں اس لیے گامی کا باپ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔ چودھری فضل حسین نے ترس کھاتے ہوئے گامی کے گھر سال بھر کی گندم اور چند سو روپے بھیج دئیے۔گامی کی ماں شوہر کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد چودھری کے ہاں کام کے لیے جانے لگی۔ماں کی غیر حاضری میں

گامی گاؤں سے باہر ٹیوب ویل کے پاس آم کے درختوں کے نیچے جا بیٹھتا اور زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا رہتا۔ اسے اپنے ابا کی بہت یاد آتی تھی۔کئی بار تو اکیلے بیٹھے بیٹھے وہ کئی گھنٹے روتا رہتا۔ گائوں کے سارے بچے دن بھر گلیوں میں گھومتے،گلی ڈنڈا کھیلتے اور جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھے کتوں کو پتھر مارتے مگر گامی ۔۔۔۔۔۔ وہ سارا دن درختوں کے نیچے بیٹھا رہتا۔گائوں میں کوئی اسکول تو تھا نہیں ورنہ بچے یوں آوارہ نہ پھرتے۔چودھری فضل حسین اسکول روایتی چوہدریوں کی طرح اسکول کا مخالف تو نہ تھا مگر اس نے کبھی اسکول کھلوانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔بس مسجد کے مولوی صاحب ہی تھے جو بچوں کو پارہ پڑھاتے تھے مگر گائوں کے بہت کم بچے ہی قرآن پاک پڑھنے ان کے پا س آتے تھے۔البتہ گامی نے مولوی صاحب سے نہ صرف قرآن پاک پڑھا تھا بلکہ تھوڑا بہت لکھنا بھی سیکھ لیا تھا۔گامی چاہتا تھا کہ وہ پڑھے اور ڈاکٹر بنے مگر وہ کرتا بھی تو کیا؟ پانچ سال کی عمر میں اس کی ماں نے اسے اپنے ساتھ چودھری فضل حسین کے گھر کام پر لے جانا شروع کر دیا۔اب وہ سارا دن چودھری صاحب کے گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتا۔چودھری صاحب کے بچے شہر میں پڑھتے تھے وہ روزانہ گاڑی پر ڈرائیور کے ساتھ اسکول جاتے تھے۔پہلے چند دن تویہاں گامی کا بالکل جی نہ لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے دوست درختوں کے سائے میں بیٹھے اور آڑی ترچھی لکیریں کھینچے۔اپنا نام لکھے اور مٹائے مگر اس کی ماں چاہتی تھی کہ وہ یہاں دل لگا کر کام کرے تا کہ چوہدری صاحب اس سے خوش ہو کر اسے پکا ملازم رکھ لیں۔کچھ دن بعد گامی کویہاں بھی دلچسپ مشغلہ مل گیا۔صفائی کے دوران اسے گودام سے چند پرانی کتابیں اور کاپیاں مل گئیں۔گامی کے لیے یہ چیزیں کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔وہ انھیں اپنے ساتھ گھر لے گیا۔دن بھر کام کے بعد رات کو سونے سے پہلے وہ ان کتابوں کو پڑھتا اور لکھنے کی کوشش کرتا رہتا۔کام کے دوران اسے اور بھی بہت سی کتابیں ملیں ،اس نے انھیں اپنے کپڑوں کے صندوق میں رکھ لیا تھا۔ درختوں کے بعد اب یہی اس کی دوست تھیں۔کاش! گائوں کا سکول کھل جائے۔۔۔وہ کتابیں پڑھتے ہوئے حسرت سے سوچتا اور سوچتے سوچتے سو جاتا۔

ضلع بھر میں سیلاب سےنمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے تھے۔ عام طور پر یہ ضلع سیلاب سے محفوظ تصور کیا جاتا تھا مگراس سال بارشوں کے غیر معمولی سلسلے کی وجہ 20 کلو میٹر دور گزرنے والا دریا بپھر گیا تھا۔نواز صاحب براہ راست ہنگامی اقدامات کا جائزہ لے رہے تھے۔آج بھی وہ دریاکے نزدیک مختلف قصبوں کے دورے پر نکلے ہوئے تھے۔ انھوں نے راستے میں کئی جگہ گاڑی رکوا کر بند کا جائزہ لیا۔ دریا کے ساتھ ساتھ ایک کیچڑ آلود کچا راستانواحی قصبے ‘شاہ پور کی طرف جارہا تھا۔نواز صاحب کی اگلی منزل یہی قصبہ تھا۔دریا نے یہیں سے اپنا رخ بدلا تھا۔ یہاں پتھروں اور مٹی سے دریا کا راستہ روکنے کے لیے کام ہو رہا تھا۔گاڑی جوں کی رفتار سے شاہ پور کی طرف رواں دواں تھی۔اس سے پیچھے کئی اور گاڑیاں بھی تھیں جن میں مختلف محکموں کے افسر بیٹھے ہوئے تھے۔
گاڑی روکو۔۔۔۔نواز صاحب نے اچانک ڈرائیور کو حکم دیا۔ڈرائیور نے فوراً گاڑی روک لی۔ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا نواز صاحب کا سیکرٹری حیرت سے نواز صاحب کی طرف دیکھنے لگا۔
جھلّا پنڈ 8 کلو میٹر۔۔۔۔ کچی سڑک کے کنارے لوہے کی زنگ آلود تختی پر لکھی ہوا جھلّا پنڈ نواز صاحب کو عجیب سا لگا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ انھوں نے گاڑی رکو ا لی۔
یہ جھلا پنڈ کیا ہے؟ انھوں نے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے اپنے سیکرٹری سے پوچھا۔
سر! معلوم نہیں، میں نے بھی یہ جگہ پہلی بار دیکھی ہے۔ سیکرٹری نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
ہوں! بڑا عجیب نام ہے، چلو ڈرائیورجھلّا پنڈ کی طرف موڑ لو گاڑی۔ہم یہاں سے ہو کر آگے جائیں گے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ جھلّا پنڈ میں کوئی بڑا افسر آیا تھا۔چودھری فضل حسین کو بھی اس کے کارندوں نے اطلاع دے دی تھی ۔وہ بھی نواز صاحب سے ملنے آ پہنچا تھا۔گاوئں کے چھوٹے بڑے گاڑیوں کے گرد جمع ہو چکے تھے۔ چودھری فضل حسین نے نواز صاحب اور ان کے ساتھ آئے افسران کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی مگر نواز صاحب نے اس سے معذرت کر لی اور ایک چوراہے پر لوگوں کے مسائل پوچھنا شروع کیے۔ وہ لوگوں میں گھل مل گئے تھے مگرلوگ بات کرنے میں جھجک محسوس کر رہے تھے۔کوئی بھی کچھ نہ بولا۔گامی بھی وہاں موجود تھا۔
بڑا صاحب گائوں کے مسئلے پوچھ رہا ہے،یار کوئی بتائو اسے یہاں ڈسپنسری ہی کھلوا دے۔ گامی کے پاس کھڑے ایک آدمی نے دبی آواز میں اپنے ساتھ کھڑے شخص سے کہا۔
چھوڑو بھائی! جب تک چودھری نہیں چاہے گا بڑا صاحب کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر گامی وہاں سے کھسک گیا۔ اس کے ذہن میں ایک خیال آیا تھا۔ اس کا رُخ اپنے گھر کی جانب تھا۔وہ تیزی سے دوڑتا ہوا گھر پہنچا اور صندوق سے کاغذ قلم نکالا اور تیزی سے کچھ لکھنے لگا۔

ٗٗٗٗجھلا پنڈ میں کوئی اسکول نہیں۔یہ ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔یہاں کوئی ڈسپنسری بھی نہیں۔میرا باپ فوت ہو چکا ہے میں پڑھنا چاہتا ہوں۔اس مڑے تڑے کاغذ پر خستہ لکھائی میں بس یہی ایک دو فقرے لکھے ہوئے

تھے۔نواز صاحب نے دفتر پہنچ کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو یہ بوسیدہ کاغذ ان کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔وہ حیران تھے کہ یہ کاغذ ان کی جیب میں کس نے ڈالا کہ انھیں احساس تک نہ ہوا۔
جھلا پنڈ کے بارے میں مجھے تما م معلومات چاہئیں۔جتنی جلدی ہومجھےساری معلومات پہنچا دیں۔ نواز صاحب نے اپنے سیکرٹری کو بلا کر حکم دیا۔
جلد ہی تمام معلومات نواز صاحب کے سامنے تھیں۔سیکرٹری نے کافی محنت کی تھی۔ جھلا پنڈ میں واقعی کوئی اسکول نہیںتھا نہ کوئی ہسپتال۔
شاید یہی میرے حصے کی شمع ہو۔ نواز صاحب نے سوچا اور کرسی سے سرٹکا دیا ۔وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ سیلاب سے نمٹنے کے بعد وہ پہلی فرصت میں حکومت سے صرف جھلا پنڈ ہی نہیں تعلیم سے محروم دوسرے قصبوں میں بھی سکول قائم کرنے کی درخواست کریں گے۔

آج جھلا پنڈ میں غیر معمولی رونق تھی۔بہت سی سرکاری گاڑیاں اور میڈیا کے نمائندے ایک نو تعمیر شدہ عمارت کے سامنے موجود تھے۔عمارت پر خوش آمدید کا بڑا سا بینر سجا ہوا تھا۔آج جھلا پنڈ میں گورنمنٹ پرائمری سکول کا افتتاح تھا۔نواز صاحب عمارت کے اندربنائے گئے پنڈال میں موجود تھے۔ ان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔گامی بھی نئے کپڑے پہنے وہاں گھوم رہا تھا ۔اس کے چہرےپر مسرت کے آثار نمایاں تھے۔تھوڑی ہی دیر میں صوبائی وزیر تعلیم تشریف لے آئے۔اسکول کا افتتاح انھیں کے ہاتھوں ہونا تھا۔افتتاحی تقریب کی نظامت ریڈیو کے ایک میزبان کے سپرد تھی۔تقریب کی ابتدائی کارروائی کے بعد نواز صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی۔
پیارے گائوں والو!آج آپ کے گائوں میں پہلی درس گاہ کا افتتاح ہے اورعجیب اتفاق ہے کہ یہ درس گاہ دو یتیموں کی کوشش کا نتیجہ ہے۔حاضرین اور اسٹیج پر بیٹھے تمام افراد نے نواز صاحب کے اس جملے پر حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ نواز صاحب نے ایک اچٹتی ہوئی نظر ان کی طرف ڈالی اور بولے:
جی ہاں! دو یتیموں کی کوششیں اس اسکول کے قیام کا باعث بنیں،ان میں سے ایک کا تعلق اس گائوں سے ہے۔حاضرین کی نگاہوں میں تجسس دیکھ کر نواز صاحب پھر گویا ہوئے:
اس سے پہلے کہ میں گائوں کے یتیم بچے کا ذکر کروں میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں:
داراپور میں ایک لڑکا رہتا تھا اس کے والدین سیلاب کی زد میں آکر دنیا سے رخصت ہو گئے۔اس کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ تھا۔دور پار کے رشتہ داروں نےکچھ عرصہ اسے پاس رکھا پھر زمین اور مکان پر قبضہ کر کے گھر سے نکال دیا۔وہ بے چارہ قسمت کا مارا، قریبی قصبے میں پہنچا ۔وہ بھوکا پیاسا سڑک کے کنارے رو رہا تھا کہ ایک داڑھی والے ادھیڑ عمر آدمی نے اس کےکندھے پر ہاتھ رکھا ۔
کیوں رو رہے ہو بیٹا؟ ان کے پوچھنے پر بچہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔وہ صاحب نیک دل آدمی اورقصبے کے سکول ٹیچر محمد یٰسین تھے ۔بس اُس دن کے بعد انہوں نے اُس یتیم بچے کو اپنا بیٹابنا لیا۔یہاں اس بچے کے دل میں علم کی شمع روشن ہوئی۔یٰسین صاحب کے ہاں اولاد نہ تھی انھوں نے اس بچے کو باپ کی شفقت سے نوازا۔۔۔۔۔کہانی سناتے ہوئے نواز صاحب کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔
پنڈال میں بیٹھے لوگ انہماک سے ان کی گفتگو سن رہے تھے۔گامی کی توجہ بھی نواز صاحب پر تھی ،وہ پریشان ہو رہا تھا کہ اگر گائوں والوں کو پتا چل گیا کہ اس نے نواز صاحب کو رقعہ تھمایا ہے تو اس کی شامت آ جائے گی۔
ماسٹر صاحب کے لے پالک بیٹے کا تعلیم حاصل کرنے کا شوق عروج پر تھا ،میٹرک کے امتحان میں اس بچے نے ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ماسٹر صاحب کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔پہلا انعام حاصل کرنے پر وہ گائوں پہنچا اور انعامی رقم ان کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے بولا:
ماسٹر صاحب! میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟ یہ سب آپ کی شفقت کا نتیجہ ہے،اگر آپ مجھ بے سہارا کو ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑا تھا۔وہ بھی گائوں والوں کی طرح انھیں ماسٹر صاحب ہی کہتا تھا۔
ماسٹر صاحب نے اسے گلے سے لگایا اور بولے؛یار،تو بھی اپنے حصے کی شمع جلا دینا،شکریہ ادا ہو جائے گا۔
دن گزرتے گئے اور وہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کرنے لگا۔ اس دوران ماسٹر صاحب بیمار پڑ گئے وہ شہر میں رہ کر پڑھنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام کرنے لگا کیونکہ ماسٹر صاحب کی تنخواہ علاج پر خرچ ہو جاتی تھی۔آخر اس نے مقابلے کا امتحان پاس کر لیامگر نتیجے سے چند دن پہلے اس کے محسن ماسٹر یٰسین دنیا سے رخصت ہو گئے۔اپنے آخری لمحات میں بھی جب وہ ماسٹر صاحب کو ان کا احسان یاد دلا رہا تھا تو وہ بولے:بس توُ وعدہ کر کہ میرے بعد تو بھی کسی کا سہارا بنے گا۔دئیے سے دیا جلائے گا۔اگر تو نے ایسا کیا تو سمجھ تو نے میرے احسان کا بدلہ چکا دیا ۔اُس نے ان سے وعدہ کر لیا تھا۔
پنڈال میں ہر طرف خاموشی تھی۔ سب کی نظریں نواز صاحب پر جمی ہوئی تھیں۔
آپ جانتے ہیں کہ وہ یتیم بچہ کون ہے؟ نواز صاحب نے رندھے ہوئے لہجے میں حاضرین سے پوچھا۔ سب دم بخود تھے۔
یقیناً نہیں۔۔۔۔۔ تو میں آپ کو بتا تا چلوں، وہ بچہ میں ہوں، آپ کے ضلع کا ڈی۔سی۔او ۔۔۔۔۔ نواز صاحب بولے، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حاضرین رشک بھری نظروں سے انھیں دیکھ رہے تھے،گامی نے بھی نواز صاحب کی باتیں غور سے سنی تھیں وہ بھی رشک بھری نظروں سے نواز صاحب کو دیکھنے لگا اور بے اختیار اس کا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے ٹکرایا۔اس کی تالی گونجنے کی دیر تھی کہ سارا پنڈال تالیاں بجانے لگا۔
پیارے دوستو! میں ان تالیوں کا حق دار نہیں، میں اپنے حصے کی شمع جلانا بھول گیا تھا۔ ماسٹر صاحب سے اپنا وعدہ افسری کے ہنگاموں میں فراموش کر بیٹھا تھا۔مجھ سے زیادہ تعریف کا حق دار وہ بچہ ہے جس نے اس پسماندہ گائوں میں رہتے ہوئے مجھے میرے فرض کا احساس دلا دیا۔اگر وہ بچہ میری بات سُن رہا ہے تو سامنے بے شک نہ آئے مگر عہد کرے کہ وہ بھی بڑا آدمی بن کر اپنے حصے کی شمع جلائے گا۔گامی کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ دل ہی دل میں عہد کر رہا تھا کہ دئیے سے دیا ضرور جلے گا اور وہ بھی نواز صاحب کی طرح اپنے حصے کی شمع ضرور جلائے گا۔اب کوئی لاعلاج نہیں مرے گا، میں ڈاکٹر بنوں گا۔ گامی سوچ رہا تھا۔پنڈال میں وزیر صاحب سمیت سب لوگ کھڑے ہو کر نواز صاحب کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔میں نے شمع جلا دی ماسٹر صاحب ،اب آپ کو یاد دلانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔نواز صاحب تصورات کی دنیا میں ماسٹر صاحب سے مخاطب تھے ۔ ان کی آنکھیںچمک رہی تھیں۔

کاشف بشیر کاشف کا تعلق ساہیوال سے ہے۔ آپ نے 1992 میں بچوں کے لیے لکھنے کا آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان سے بطور صداکار منسلک رہے۔ آج کل جواں ادب کی ادارت کے علاوہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here