اصل جانشین ——— تحریر: آسیہ حق نواز

0
108

شاہ مراد ایک نہایت سمجھ دار اور بہادر بادشاہ تھا ۔ اس کے تین بیٹے تھے ۔ جب بادشاہ کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا تو اسے بہت سی کامیابیاں نصیب ہوئیں اور اس نےکئی ریاستوں کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کیا۔یہ فخر اور خوشی کی بات تھی. اس خوشی میں شاہ مراد نے شہزادے کا نام فخر الدین رکھا اور شہزادے کو اپنے لیے فخر تصور کرنے لگا.فخر الدین کے بعد دوسرے شہزادے کا نام اسماعیل شاہ رکھا گیا شاہ مراد کو اپنے دونوں شہزادوں سے نہایت محبت تھی ۔جب تیسرا شہزادہ پیدا ہوا تو سلطنت کے حالات کافی خراب تھے ۔ دشمن پر طرف سے بے قابو ہو رہے تھے ۔ بادشاہ بہت پریشان تھا ۔اس دوران جب شاہ مراد کو شہزادے کی آمد کا پتا چلا تو بجائے خوش ہونے کے اُس نے اپنے حالات کا ذمہ دار ننھے شہزادے کو قرار دیا اور کہا کہ یہ سب اسی کی نحوست سے ہو رہا ہے ۔ شاہ مراد کو نئے شہزادے سے نفرت سی ہو گئی اور اُس نے شہزادے سے منہ موڑ لیا. ملکہ نے ہی ننھے شہزادے کا نام عبد القادر شاہ رکھا ۔
بادشاہ اپنے بڑے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ، انھیں ہر جگہ ساتھ رکھتا اوراہمیت دیتے ہوئے انھیں اپنا جانشین قرار دیتا جب کہ عبد القادر ایک آنکھ نہ بھاتا ۔شہزادہ عبدالقادراپنے باپ کے رویے کو سمجھنے کے قابل ہو چکا تھا اور اپنے بھائیوں کے سامنے نہ صرف احساس محرومی میں مبتلا تھا بلکہ احساس کمتری کا شکار بھی ہو رہا تھا.ملکہ کو اس بات کاخوب ادراک تھی ۔وہ اس پر کڑھتی ضرور تھی مگر ہمیشہ شہزادے عبدالقادر کی ہمت بڑھاتی اور باپ کی تلخی کو اپنی شفقت میں چھپا دیتی.وقت گزرتا گیا، شہزادے جوان ہو گئے ۔ دونوں بڑے شہزادوں کو اہم امور سلطنت کی ذمہ داری سونپی گئی وہ بادشاہ کے خاص مشیر اور وزیر تھے ۔ اور مستقبل کے جانشین بھی. ملکہ کا نام ترنم آرا تھا. وہبہت دور اندیش عورت تھی۔یہ سب دیکھتے ہوئے سلطنت کی بقاءاور مستقبل میں تینوں شہزادوں کو لڑائی سے بچانے کے لیے ملکہ نے بادشاہ سلامت کے سامنے اپنی رائے بیان کی کہ شہزادے عبدالقادر کو کسی ریاست کا سربراہ بنا دیا جائے. بادشاہ بھی راضی ہو گیا اور عبدالقادر کو دوردراز واقع ایک چھوٹی سی ریاست کا گورنر بنا کر بھیج دیا گیا ۔ تاکہ وہ اپنے معاملات میں مست رہے اور اسے بادشاہ کا ایسا رویہ برداشت نہ کرنا پڑے اور یہی سب کے حق میں بہتر تھا .
وقت گزرتا گیا عبدالقادر تیر اندازی اور تلوار بازی میں بہت ماہر ہو گیا ایک بہادر سپہ سالار بن گیا ۔ اور اس نے ایک بڑی بہادر فوج تیار کر لی تھی اور کئی ریاستوں پر اپنا رعب و دبدبہ قائم کر چکا تھا ۔ شہزادہ بادشاہ کی سلطنت سے باکل کنارہ کش ہو چکا تھا اور اب تو اس کی اپنی ایک ریاست بن چکی تھی ۔
ادھر سلطنت میں بادشاہ کو ایک بڑے دشمن کا سامنا تھا اور ایک بڑی جنگ منتظر تھی ۔ اچانک دشمن نے سلطنت پر حملہ کر دیا اور بادشاہ نے شہزادوں سمیت میدان میں اتر کر خوب سامنا کیا اور یہ جنگ کئی روز جاری رہی آخر کار دشمن نے بادشاہ کے کئی ہزار سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور شکست بادشاہ کی منتظر تھی کہ دونوں شہزادے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور اپنی جان بچاتے ہوئے باپ کو تنہا چھوڑ کر فرار ہو گئے جب اس جنگ کی خبر شہزادہ عبدالقادر کو پہنچی تو فوراً اپنا لشکر لیے جنگ کے لئے سلطنت کی طرف روانہ ہو گیا بادشاہ کا آخری وقت آچکا تھا اور کچھ ہی سپاہی تھے جو بادشاہ کی حفاظت کر رہے تھے آخری وقت تھا کہ شہزادہ آپہنچا اور سب سے پہلے باپ کو بچایا اور پھر دشمن کے تمام سپاہیوں کو خاک میں ملا دیا ۔بادشاہ سلامت یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اپنا تاج اتار کر شہزادے کے سر پر رکھ دیا اور خوشی سے آنکھوں سے آنسو رواں تھے بادشاہ اتنا ہی کہ سکا ۔ شہزادے آج آپ نے مجھے اپنا مقروض کر دیا ۔۔۔۔۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here