ایک ادیب، ایک کتاب . تبصرہ نگار: نذیر انبالوی

1
679

یہ کتاب دوست سلسلہ بچوں کے معروف ادیب، معلم اور ہم سب کے جانے پہچانے ایوارڈ یافتہ قلم کار جناب نذیر انبالوی نے سوشل میڈیا پر شروع کیا ہے. اسے جلد ہی کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا.یہاں آپ کے ذوق مطالعہ کے لیے جناب نذیر انبالوی کی خصوصی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے.

دور حاضر میں مزاحیہ شعری ادب میں محمد ادریس قریشی کا نام نمایاں اہمیت کا حامل ھے۔عیدین پر مزاحیہ مشاعروں میں ان کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔شوخ لباس میں ان کا لہجہ بھی شوخ ہوتا ہے،شعرپڑھتے ہوۓ چہرے پر سنجیدگی مگر آنکھوں میں شرارت ہوتی ہے۔حاضرین جب ”واہ واہ“ کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے.
آج کے یہ معروف مزاحیہ شاعر ماضی میں بچوں کے ادیب رہے ہیں،ممکن ہے کچھ لوگ اس بات سےاختلاف کریں کہ وہ تو اب بھی بچوں کے ادیب ہیں،جی یہ ہے تو درست مگران دنوں ان کی تمام تر توجہ مزاح نگاری پر مرکوز ہے،شاید اس تحریر کے بعد وہ بچوں کے ادب میں لوٹ آئیں.
نثری مزاح میں امتیاز علی تاج نے چچاچھکن کا لازوال کردار تخلیق کیا،پھر بہت سے مزاح نگاروں نے بچوں کے لیے اپنے اپنے اندازمیں مزاحیہ کردار تخلیق کیے۔حافظ جی،منشی منقی کے ساتھ ساتھ چچابھلکڑ،چچا حیرت،تایا ناتواں،الٹے میاں،بدھو میاں،خالو خراٹے اور ماموں ملال نمایاں ہیں.
محمد ادریس قریشی نے چچا حیرت کے کردار کے ذریعے شگفتہ انداز میں معاشرتی ناہمواریوں کو نہایت موثر پپراۓمیں بیان کیاہے۔چچا حیرت کے ہر کام میں حیرت کی جھلک نظر آتی ہے.
چچا حیرت کی مقبولیت میں بچوں کے ہر دل عزیز رسالے”تعلیم وتربیت“ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ کہنا بےجانہیں ہو گاکہ اس کردار نے تعلیم وتربیت کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔قارئین کے خطوط سے اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ چچا حیرت کو غیر معمولی مقبولیت ملی۔
چچاحیرت کبھی بچت کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی شاعر کا روپ دھار لیتے ہیں،کبھی الیکشن لڑتے ہیں اور کبھی حکیم بن جاتے ھیں۔چچا حیرت اپنی ذہانت کا بھی ثبوت دینےکی کوشش کرتے ہیں اور مچھر مارتےبھی نظرآتے ہیں،غرض چچاحیرت ہر روپ میں قارئین کو خوب جچتے ہیں۔ کہانیوں میں چچا حیرت کے دوست شیدا اور عیدا بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ھیں،کہیں کہیں خالو خراٹے بھی اپنا رنگ جماتے ہیں.
پیش لفظ میں مصنف لکھتے ہیں.

”میں اپنے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا میں مزاح لکھنے کے لیے کوشش نہیں کرتا بلکہ میرے قلم سے مزاح خود بہ خود نکلتا ھے۔لوگ خصوصًابچے اور نوجوان اس سے محظوظ ھوتے ھیں تو یہ میری خوشی کاباعث ہوتا ہے“
ان کے بیان کی تصدیق ان کی تحریروں سے ہوتی ہے،زیادہ تر کہانیاں آمد ہیں ،آورد کاکہیں شائبہ تک نہیں ہوتا۔چھوٹے چھوٹے جملوں سےکہانی آگے بڑھتی ھے۔کہانی”چچاحیرت نےبچت کی“ سے ایک اقتباس ملا حظہ کیجئے.
”بیگم نے منہ بنا کر کہا:
” پیسے بچانے والی بات تو میری سمجھ میں نہیں آٸی،ہاں یہ ھے کہ اس بہانے بھاٸی شوکت سے ملاقات ھو جاۓگی“
بس پھر کیا تھا۔اگلے ھی دن صبح لاھور جانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔انھوں نے اپنے کپڑے ایک بیگ میں رکھ لیے۔چچاحیرت نے کہا:
”ہم جا تو رہے ہیں،لیکن ہماری مرغیوں کا کیا بنے گا؟“
”ہاں،یہ تو ہے“ بیگم نےسر ہلایا۔
ان کے پاس دس مرغیاں اور دو مرغ تھے۔چچا نے کہا:
”کوئی بات نہیں،میں اپنے پڑوسی دینے سے بات کرتا ہوں،وہ مرغیاں سنبھال لے گا اور انھیں دانہ دنکا ڈال دیا کرے گا“
چچا نے ہمسائے سے بات کی تو وہ بولا:
”بھئ چچا! تمھاری مرغیاں تو میں سنبھال لوں گا،لیکن تمھارےدونوں مرغ بہت خطرناک ہیں،ٹھونگے مار کر میرے بچوں کو زخمی نہ کر دیں،یہ تو مجھ سے نہیں سنبھالے جائیں گے“
چچا نے بے فکری سے کہا:
” چلو دو مرغوں کا کیا ہے،انہیں ہم اپنے ساتھ لاھور لے جائیں گے،ویسے بھی ہم نے وہاں کون سا زیادہ عرصہ رہنا ہے،پندرہ بیس دنوں کی تو بات ہے“
کہانیوں میں واقعاتی مزاح کے بجاۓلفظی مزاح پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔زبان چوں کہ آسان ہے اس لیے ابلاغ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو تی۔
”چچاحیرت“کی 21 کہانیاں کتاب میں شامل ہیں۔مصنف نے کتاب کاانتساب اپنے نورِ نظر عبداللہ اور لختِ جگر خدیجہ ادریس کے نام کیا ہے.پیش لفظ میں محمد ادریس قریشی چچا حیرت کی کہانیوں کی تخلیق کا مقصد یوں بیان کرتے ہیں.
”مزاح انسان کی فطرت میں شامل ہے،یہ غم اور دکھوں کا علاج ہے، بچے مزاح پڑھ کر لطف اندوز ہوں اور ساتھ ہی بہت سی اچھی اقدار بھی سیکھ جائیں تو اور کیا چاہیے“
”چچاحیرت“کو معروف اشاعتی ادارے بچوں کا کتاب گھر نے شائع کیا ہے۔یہ کتاب بچوں کے مزاحیہ ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔
آغاز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ان تبصروں کو کتابی صورت میں شائع کیا جاۓگا،اگر آپ بھی اپنی کتاب پر تبصرہ کروانا چاہتے ہیں تو اپنی کتب درج ذیل پتے پر ارسال کر دیں.
بچوں کا کتاب گھر
ہادیہ حلیمہ سنٹر،غزنی سٹریٹ،اردو بازار،لاھور
رابط نمبر 03014274836

1 COMMENT

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here