دھماکے کی واپسی — ادریس قریشی

0
34

جیپ ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ رُک گئی۔ ہم تینوں اچھل کر ایک دوسرے پر گرے۔ میرے منہ سے ایک دم نکلا کک ….. کیا ہوا انکل ؟
مگر میرے سوال کا جواب مجھے خود ہی معلوم ہو گیا۔ سڑک پر ایک بہت موٹا درخت گرا پڑا تھا، جس سے آگے جانے کاراستہ بند ہو گیا تھا۔انکل چھلانگ مار کر نیچے اُترے۔ میں کاشف اور نویدبھی نیچے اُتر آئے اور حیرت سے درخت کو دیکھنے لگے۔ہم تینوں دوست میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہو چکےتھے اور ہمارا زیادہ وقت انکل کے پاس ہی گزرتا تھا۔ انکل ہمارے محلے کی دل چسپ شخصیت تھے۔ وہ ایک ریٹائرڈفوجی تھے اور پورے محلے کے انکل تھے۔
ایک دن بیٹھے بٹھائے ہمارا یک تک منانے کا پروگرام بن گیا۔ کاشف نے کہا لیکن پک تک کے لیے کہاں جایاجائے ؟
انکل نے کہا :بھئی، میرے ذہن میں ایک بڑی خوبصورت جگہ ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور پہاڑیاں سبز ے سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ وہاں کا موسم بہت سہانا ہوتا ہے؟
نوید نے کہا :انکل کیا وہاں شکار بھی ملتا ہے۔
انکل نے کہا ہاں۔ میں اپنی بندوق لے چلوں گا۔ ہم پرندوں کا شکار کریں گے اور وہیں پر انہیں بھون کر کھائیں گے۔
بس پھر کیا تھا۔ ہم چند دن بعد یہاں آگئے۔ لیکن اب یہ درخت ہمارا راستہ روکے ہوئے تھا۔
میں نے کہا :انکل ، ہم چاروں زور لگائیں تو شاید یہ ہٹ جائے ۔۔
انکل نے کہا ” آؤ دیکھتے ہیں۔”
ہم چاروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تو درخت اپنی جگہ سے ذرا سا ہلا۔ ہم نے اُسے چھوڑا تو وہ پھر اپنی پہلی جگہ پر آگیا۔
یہ مسئلہ ایسے حل نہیں ہو گا ۔ نوید بولا۔
تو پھر کیا کریں؟ میں نے پریشان ہو کر کہا۔
یہ ایک پتلی سی سڑک تھی اور اس کے دونوں طرف لمبے لمبےدرخت تھے۔ اس لیے سڑک سے نیچے اُتر کر بھی جیپ کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔
کاشف بولا : میرا خیال ہے، ہم یہاں بیٹھ کر انتظار کریں۔ شاید کوئی کار وغیرہ اس طرف آجائے ۔ پھر ہم کار والوں کے ساتھ مل کر اس درخت کو ہٹانے کے لیے زورلگا ئیں گے۔
ہم اُس درخت پر ہی بیٹھ گئے۔ مگر آدھا گھنٹا گزر گیا اور دور دور تک کوئی بھی آتا دکھائی نہ دیا۔ میں نے تنگ آکر کہا اب کیا کریں؟
انکل نے کہا :بھئی یہ سڑک کسی شہر کو نہیں جاتی۔
اس لیے اس پر ٹریفک نہیں چلتی۔ کوئی سیرو تفریح کرنے والا ہی اس طرف آسکتا ہے ۔
پھر ہمیں کیا کرنا چاہےک ؟ نوید نے بے چینی سے کہا۔
انکل بولے :میرا خیال ہے ، ہم اپنا سامان اٹھالیں اور جیپ کو یہیں چھوڑ کر پیدل چلیں۔ ویسے بھی ذرا سا ہی فاصلہ رہ گیا ہے ۔ہم نے اپنا سامان اٹھایا اور درخت پھلانگ کر آگے چل پڑے۔ ہمیں آدھ گھنٹے تک چلنا پڑا۔ آخر انکل بولے لو وہ جگہ آگئی۔
چاروں طرف بہت حسین منظر تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی تھی۔ سرسبز میدان کے تین طرف چھوٹی چھوٹی سبزے سے ڈھکی ہوئی پہاڑیاں تھیں۔ ایک ندی بھی بہ رہی تھی۔ اتنا سُہانا منظر دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہم نے گھاس پر کپڑا بچھایا اور بیٹھ گئے۔
میرا خیال ہے، پہلے کھانا کھالیا جائے۔ پھر پرندوں کاشکار کریں گے ۔ انکل نے کہا۔
درختوں پر بہت خوب صورت رنگ برنگ پرندےچہچہا رہے تھے۔میں نے کہا :انکل میرے خیال میں پرندوں کا شکار نہ کیا جائے۔ گھر سے لایا ہوا کھانا کافی ہے۔ ہم یہاں گھوم پھر کر تصویریں اُتاریں گے ۔
کاشف بولا : بالکل ٹھیک۔ ان معصوم پرندوں کی جان لینے سے کیا فائدہ؟
ہم نے کھانا کھایا اور کھانے کے بعد اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے۔چند تصویر میں بھی اُتاریں۔اچانک ایک زور دار آواز گونجنے لگی “دگڑ، دگڑ، دگڑ، ہم حیرت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تیزی سے ہماری طرف آرہا ہے۔ وہ ہمارے پاس آکر رک گیا اور تیز آواز میں بولا :کون ہو تم اور یہاں کیا کرنے آئے ہو؟
ہم نے کہا:ہم یہاں سیر کرنے آئے ہیں۔ آپ کوکوئی اعتراض ہے؟
اس آدمی نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے ایک عجیب حرکت کی۔ اُس نے پستول نکالا اور ٹھائیں ،ٹھائیں، ٹھا ئیں، تین ہوائی فائر کردیے۔ فائر کی آواز سے پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ ہم ابھی حیرت سے حیرت سے اُس آدمی کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اور بہت سے آدمی بھاگتے ہوئے آگئے۔
دوسرے ہی لمحے ہم چاروں اُن آدمیوں کے گھیرے میں تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں رائفلیں تھیں اور وہ شکلوں سے خطرناک نظر آرہے تھے ۔
گھڑ سوار نے اُن آدمیوں سے کہا :ان چاروں کو پکڑکر ڈیرے پر لے چلو۔
وہ ہماری طرف بڑھے تو انکل نے تیزی سے کہا:”خبردار! ٹھہر جاؤ ! ”
یہ سُن کر ایک آدمی نے فائر کیا۔ گولی انکل کے کندھے کے قریب سے گزر گئی۔ اُس نے گرج کر کہا :ہمارےساتھ چلو! چُپ چاپ!
وہ بدمعاش ہمیں اسلحے کے زور پر ایک طرف لےچلے۔ گھڑ سوار آگے نکل کر پہاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ لوگ ان پہاڑیوں میں کوئی غیر قانونی کام کر رہے ہیں اور گھڑ سوار ان کا سردار ہے۔تھوڑی دور چلنے کے بعد وہ ہمیں ایک پہاڑی غار کےپاس لائے اور ہمیں اندر گھنےی کو کہا۔ غار میں لال ٹین جل رہی تھی۔ اُس کی روشنی میں ہم چلتے رہے۔ غار آگے جاکرایک بڑے سے ہال کمرے میں تبدیل ہو گیا۔ وہاں کا منظردیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم کسی پرانےزمانے کے بادشاہ کے دربار میں آگئے ہیں۔ ہال میں ایک بڑا سا تخت بچھا ہوا تھا اور اُس پر وہی گھڑ سوار گاؤ تکیے سےٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
بد معاشوں نے بلند آواز سے کہا” اُستاد! یہ آ گئے ہیں۔ ”
اُستاد نے ہم سے کہا ” تخت کے پاس زمین پر بیٹھ جاؤ”۔اگر کوئی غلط حرکت کی تو نتیجے کے ذمے دار تم ہو گے۔ہم چاروں زمین پر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔
بد معاش پتھریلی دیواروں کے ساتھ پتھر کے ۔ بنچوں پر بیٹھ گئے۔
انکل نے تخت پر بیٹھے ہوئے اُستاد سے کہا :ہاں بھئی اب بتاؤ ۔ہمیں یہاں کیوں لایا گیا ہے؟ ہم تو سیر کرنے آئے ہیں۔ سریکر کے واپس چلے جائیں گے۔
اُستاد نے قہقہہ لگایا اور بولا ”لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہاں کوئی سیر کرنے آئے۔ اس لیے ہم نے اس سڑک پر ایک درخت کاٹ کر ڈال دیا ہے۔
نوید بولا: لیکن یہ تو بتاؤ کہ تم اس جگہ کیا کر رہے ہواور اب ہمارے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟
اُستاد نے دانت نکالتے ہوئے کہا : تمہیں تو اب یںی دفن کر دیا جائے گا۔ اگر ہم نے تمہیں چھوڑ دیا تو تم پولیس کو ہمارے اڈے پر لے آؤ گے۔ اور رہ گئی یہ بات کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں تو یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔
انکل نے کہا :مسٹر اُستاد میرا خیال ہے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اگر تم ہمیں یہاں نہ لاتے تو ہم پک نک منا کر واپس چلے جاتے۔ ہماری جیپ یہاں سے کچھ فاصلے پر سڑک پر کھڑی ہے اور ہمارے گھر والوں کو بھی علم ہے کہ ہم اس طرف آئے ہیں ۔ اگر ہم اپنے گھر واپس نہ گئے تو پولیس ہمیں تلاش کرتی ہوئی یہاں آجائے گی اور یہ غارآسانی سے ڈھونڈ لے گی۔
اُستاد نے حلق پھاڑ کر قہقہہ لگایا اور پھر بولا ”نہیں”
پولیس اس غار تک نہیں پہنچ سکتی۔ غار کے منہ پر ایک بہت بڑا پتھر رکھ دیا جاتا ہے۔ تمہاری جیپ کو بھی ہم غائب کر دیں گے۔ اور ہاں، میرا دماغ خراب نہیں ہوا۔ یہاں پک تک منانے والے جب اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے تو لوگ خوف زدہ ہو جائیں گے اور اس جگہ آنا چھوڑ دیں گے۔ اس طرح ہم یہاں اپنا کام آرام سے جاری رکھ سکیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ہم سمجھ گئے۔ لیکن تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو ؟ یہ تو ہمیں بتا دو۔
اُستاد نے کہا ”سننا ہی چاہتے ہو تو سنو ۔ لیکن تم تینوں تو بچے ہو۔ تمہیں بھلا کیا معلوم۔ ہاں، یہ بُزرگ ضرورحیرت اور خوف کے مارے اُچھل پڑیں گے، جب میں انہیں اپنا نام بتاؤں گا۔ سنو ! میرا نام دھماکا ہے۔
دھماکا! ارے باپ رے! انکل کی آنکھیں خوف کے مارے پھیل گئیں۔ اُن کا جسم تھر تھر کانپنے لگا۔ ہم تینوں ان کی یہ حالت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بھلا کسی آدمی کا نام دھماکا ہے تو اس سے انکل کو اتنا خوف زدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
دھماکے نے پھر ایک قہقہہ لگایا اور بولا ”کیوں؟ میں نے ٹھیک کہا تھا ناں کہ تم میرا نام سُن کر ہی تھر تھر کانپنے لگو گے۔
ایک منٹ بعد انکل کی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نےکہا :تو … تم ہو دھماکا، جسے پورے ملک کی پولیس پندرہ سال سے تلاش کرتی پھر رہی ہے۔
ہاں۔ اور اب پندرہ سال بعد میں ایک بار پھر اپنا کام شروع کرنے والا ہوں۔ اور اس کی ایک وجہ ہے۔دراصل یہ وجہ میری کم زوری ہے، بہت بڑی کم زوری۔دھماکے نے کہا۔
انکل بولے :میں وہ وجہ سننا چاہتا ہوں، مسٹر دھماکا۔دھماکے نے جواب دیا :وہ وجہ ہے شہرت حاصل کرنا۔ میں بچپن ہی سے چاہتا تھا کہ پورے ملک میں میرا نام مشہور ہو جائے۔ اور جب شُہرت حاصل کرنے کا کوئی اورطریقہ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے یہ راستہ اختیار کرلیا۔میں نے شہر میں دھڑا دھڑ ڈاکے ڈالے اور جہاں بھی ڈاکا ڈالا وہاں ایک کارڈ ضرور پھینک دیا، جس پر لکھا ہوا تھا :میرا نام دھماکا ہے۔ پولیس میری گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔
اور ہوا بھی یہی۔ پولیس مجھے کبھی گرفتار نہیں کر سکی۔اور تو اور کوئی میری شکل تک سے واقف نہ تھا۔ میرا نام سُن کر ہی بڑے بڑے سیٹھ اور پولیس افسر خوف زدہ ہو جاتے تھے۔ اور پھر میرے پاس بے تحاشا دولت جمع ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ اب ڈاکے ڈالنا چھوڑ دینا چاہےڑ اور باقی زندگی آرام سے گزارنا چاہیئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اُن کا حصہ دے کر فارغ کر دیا اور خود مزےسے زندگی گزارنے لگا۔ میرا نام ملک کے تمام اخباروں میں
چھپتا رہا۔ مجھے گرفتار کرنے والے کو انعام دینے کے اشتہار دیے جاتے رہے۔ پولیس نے میرا خیالی خاکہ بنا رکھا تھا جومیری شکل سے بالکل مختلف تھا۔ اس خاکے کو دیکھ دیکھ کرمیں ہنسا کرتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اخبارات میں میرا نام چھپنابند ہو گیا۔ سال پر سال گزرتے گئے اور لوگ میرا نام بھی بھول گئے۔ آج پندرہ سال بعد لوگوں کو یاد بھی نہیں رہا کہ کبھی کوئی دھما کا نام کا ڈاکو ہوا کرتا تھا۔ صرف پرانے لوگوںکے ذہن میں ہو گا، جیسے تمہارے ذہن میں تھا۔ دھماکا ڈاکویہ کہ کر خاموش ہو گیا۔نوید نے کہا :تو پھر دھماکا صاحب اب تمہیں دوبارہمیدان میں آنے کی کیا ضرورت پڑگئی؟
دھماکے نے جواب دیا ” میں نے بتایا ناں کہ شہرت میری بہت بڑی کمزوری ہے، اور شہرت حاصل کرنے کی میری یہ خواہش پھر ابھر آئی ہے۔ میں نے ایک نیا گروہ بنالیا ہے اور اب ہم وارداتیں کریں گئے اور جہاں ڈاکے ڈالیں گے، وہاں ایک کارڈ ضرور پھینکیں گے ، جس پر لکھا ہوگا :
پندرہ سال بعد دھماکے ڈاکو کی واپسی۔
اس طرح میرا بھولاہوا نام پھر مشہور ہو جائے گا۔
انکل نے کہا ”مسٹر دھماکا، مجھے افسوس ہے کہ تم نے شہرت حاصل کرنے کے لیے اک غلط راستے کا انتخاب کیا ہے۔
میں نے جلدی سے کہا ”دھما کا صاحب، کیا تمہارے ماں باپ نے تمہارا نام دھما کا رکھا تھا؟
دھماکے نے کہا : نہیں۔ انہوں نے میرا نام شرافت علی رکھا تھا۔
کاشف بولا :تم میں چوں کہ شرافت نہیں تھی اس لیے تم نے اپنا نام بدل لیا۔
دھما کا جھنجلا کر بولا : بہت باتیں ہو چکیں۔ اب تمہیں زندہ دفن کرنے کا پروگرام شروع کیا جاتا ہے۔ بچے !
شیدے، سامی، گوگے، ان کو باندھ دو اور گڑھا کھودنا شروع کردو۔موٹے تازے بدمعاشوں نے ہمیں رسیوں سے کس کر باندھ دیا اور پھر کئی
بد معاش گدالوں سے پتھریلی دیوارکے قریب گڑھا کھودنے لگے۔ہم بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک میرے منہ سے نکلا :مسٹر دھماکا میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ بات تمہارے فائدے کی ہے۔ہاں ہاں بولو۔ اب تو تم چند لمحوں کے مہمان ہو۔دھماکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں نے کہا :مسٹر دھماکا زندگی اور موت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ میں تم سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شہرت حاصل کرنے کا جو طریقہ تم نے اختیار کیا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ تمہیں ہر لمحہ یہی دھڑکا لگا رہے گا کہ اب پولیس آئی کہ آئی۔ اور اگر تم پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو سمجھو کہ گئے وہیں پندرہ سال کے لیے۔
لیکن اس میں میرے فائدے کی کیا بات ہے؟دھماکے نے آنکھیں گھمائیں۔
وہی تو بتا رہا ہوں، میں بولا : تم نے اپنا نام دھماکا رکھا ہے۔ اس طرح شہرت تو دھماکا ڈاکو کی ہوئی، تمہاری تو نہیں ہوئی ناں؟ تمہیں تو کوئی نہیں جانتا۔ مزہ تو تب تھا کہ تم اپنے اصل نام ، شرافت علی سے مشہور ہوتے اور لوگ تمہاری عزت کرتے۔ تمہیں بددعا ئیں نہ دیتے، دُعائیں دیتے۔ تمہارا نام سُن کر تھر تھر نہ کانپتے تم سے ملنے کی آرزو کرتے ۔ مسٹردھماکا، تم شہرت حاصل کرنے میں بالکل ناکام رہے ہو ۔
دھما کا سوچ میں گم ہو گیا۔ پھر اُس نے کہا لیکن اپنے اصل نام کے ساتھ میں کس طرح شہرت حاصل کر سکتاہوں؟
انکل جلدی سے بولے ”مسٹر دھماکا ، تم مجھے کاغذ قلم منگوا دو۔ میں تمہیں ایک منصوبہ بنا کر دیتا ہوں۔دھماکے نے اپنے ایک ساتھی سے کاغذ قلم لانے کوکہا۔ ایک منٹ بعد وہ کاپی اور قلم لے آیا۔انکل چند منٹ کچھ لکھتے رہے۔ پھر بولے : یہ لو، مسٹر دھماکا۔ ہمیں دفن کرنے سے پہلے اس پر ذرا غور کرلو۔
میرے اس منصوبے پر عمل کر کے تم شہرت بھی حاصل کر سکتے ہو اور اپنے گناہوں کی تلافی بھی کر سکتے ہوئے دھماکے نے کاغذ پر نظریں دوڑائیں۔ وہ کافی دیر اُس پر لکھی ہوئی تحریر پڑھتا رہا۔ پھر اُس نے بلند آواز سے کہا :میں آپ کوآزاد کرتا ہوں۔ لیکن آپ وعدہ کریں کہ پولیس کو ہمارے
بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔ میں آپ کے منصوبے پرعمل کروں گا، لیکن کچھ وقت تو لگے گا ہی نا۔
انکل نے کہا :ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔تھوڑی دیر بعد ہم اپنی جیپ میں بیٹھے واپس جارہے تھے۔
انکل نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم کسی کو اس واقعے کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔
ایک ماہ بعد ہم اخبار پڑھ رہے تھے کہ ایک خبر پڑھ کر چونک اٹھے ۔ لکھا تھا:ملک کے مشہور ڈاکو دھماکا نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اُس نے عہد کیا ہے کہ اپنے کیے کی سزا بھگتنے کے بعد شرافت کی زندگی بسر کرے گا کیوں کہ اُس کا نام شرافت علی ہے۔یہ خبر پڑھ کر ہم مسکرا دیے۔ انکل کا منصوبہ کامیاب رہا تھا!

بشکریہ: ماہ نامہ تعلیم و تربیت لاہور

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here