ظفری سائیکلوں والا— اختر عباس

0
37

میں اچانک ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا۔ سسکیوں کی آواز نے میرےقدموں کو روک لیا۔ وہ ایک ڈھلتی ہوئی شام تھی۔ اُس شام میں اس نئے گاؤں کے بارے میں سوچتا ہوا جا رہا تھا جہاں مجھے مجھے “رورل ہیلتھ سنٹر” کے انچارج ڈاکٹر کا چارج لیے ہوئے دوسرا روز تھا۔
میں ڈاکٹر بننے کے بعد شہر کی رونقیں چھوڑ کر اس دور دراز گاؤں میں آگیا۔ یہاں میرا کوئی بھی شناسا نہ تھا۔ ویسے بھی مجھے یہاں آئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے۔ مگر میں خوش تھا کیوں کہ میری خواہش کی تکمیل ہوئی تھی اور مجھے خدمت کا موقع ملا تھا۔رونے والا بچہ بھی کوئی دس گیارہ سال کا تھا۔ وہ گھٹنوں میں سردینے سسکیاں بھر رہا تھا۔ اُس کے پیچھے سکول کی ایک بلڈنگ تھی جس کی چار دیواری تھی اور کچھ کمرے پختہ تھے۔ یہ اس گاؤں کا ہائی
سکول تھا۔
میں نے اس بچے کے شانے پر ہاتھ رکھا اور بڑے پیار سےپوچھا :منے کیا بات ہے؟ کسی نے مارا ہے کیا؟
جب بچے نے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے اُس کے روتےچہرے کو گھٹنوں پر سے اُٹھایا۔ اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور چہرے پر مار کے نشانات تھے۔ کسی نے بڑی بے دردی سے اسے مارا تھا۔ میں اُس کے پاس ہی بیٹھ گیا اور اس سے کہا : بیٹے مجھے بتاؤ تو سہی۔ ممکن ہے میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں ۔
بچے نے بڑی بے چارگی سے میری طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہا۔شاید اُسے پیار بھرے جملوں سے ہمیشہ مرحوم رکھا گیا تھا۔ وہ پیارسے ترسا ہوا ہوا بچہ تھا۔ میں اُسے اپنے ساتھ ہسپتال لے آیا۔ اس چھوٹے سے ہسپتال کے ایک سرے پر ڈاکٹر کے لیے ایک خُوب صورت ساسر کاری گھر تھا۔ اس کے لان میں چوکیدار نے کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ہم وہیں جاکر بیٹھ گئے۔ میں نے بابا کو آواز دی۔
”بابا جی ٹھنڈا پانی لایئے۔ “
پانی پینے کے بعد وہ بچہ کافی حد تک نارمل ہو چکا تھا۔ اب اُس نے مجھے بتایا :ڈاکٹر صاحب میرا نام ظفر ہے، مگر کہلاتا ظفری ہوں۔ میں تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں۔ میری ماں قصبے کے گرلز اسکول میں کام کرتی ہے اور باپ صرف حقہ پیتا ہے اورلوگوں سے کہیں لگاتا ہے۔ مجھے اسکول جاتے ہوئے پانچواں سال ہے۔ مگر جماعت ابھی چوتھی ہے۔ دو سال سے ایک ہی جماعت میں ہوں۔ ڈاکٹر صاحب، میں کوئی کند ذہن نہیں۔ مگر میری راہ نمائی
کرنے والاکوئی نہیں اور نہ ہی کوئی میری ہمت بندھاتا ہے۔آج میری ماں نے مجھے خُوب مارا۔ مجھے مارتے ہوئے وہ خود بھی رو رہی تھی۔ میرا باپ پہلے خاموشی سے دیکھتا رہا اور پھر اُٹھ کر باہر چلا گیا۔ میری ماں نے آج فیصلہ سنا دیا کہ ظفری اب شیدے سائیکلوں والے کی دکان پر بیٹھا کرے گا اور پنکچر لگایا کرے گا۔پڑھائی و ڑھائی ختم ۔
ڈاکٹر صاحب، میں اسی پریشانی کی وجہ سے نہ جانے کب سے رو رہا ہوں۔ ظفری کی یہ کہانی سُن کر مجھے بہت دُکھ ہوا۔
گیارہ سال کا بچہ کوئی بچہ نہیں ہوتا۔ پھر محرومیوں کے شکار بچے اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔ اُسے یقین تھا کہ اب وہ کبھی بابو نہیں بن سکے گا۔ بس ساری عمر سائیکلوں کو پنکچر ہی لگائے گا۔ ظفری کی ان پڑھ ماں اُس کی دُشمن تو نہ تھی۔ مگر اس کے سوا اور چارہ ہی کیا تھا کہ ظفری کو کوئی ہنر سکھا کر تھوڑا بہت کمانے کے قابل کردے۔
لیکن ظفر، ظفری سائیکلوں والا نہ بنا۔ کیوں کہ اُسے میں نے اپنے گھر رکھ لیا۔ اُس کے والدین سے میں نے یہ کہہ کر اجازت لےلی کہ ظفر کو میں چھوٹا ڈاکٹر بناؤں گا۔میرے ساتھ رہنے کے بعد اب وہ صاف ستھرا بچہ ظفر تھا جو ہر ہفتے اپنی ماں کو دس روپے دیتا تھا اور کہتا تھا :ماں اب میں چھوٹا
ڈاکٹر بنوں گا۔
میرے پاس جب کبھی دوست آتے تو خوب محفل جمتی۔ ظفر کو ہماری محفلوں میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا۔ اسی لیے میرے تمام دوست اُسے پہنچاتے تھے۔
میرا اور ظفر کا کوئی پانچ سال کا ساتھ رہا۔ جب میرا تبادلہ لاہور ہوا تب وہ دسویں کا امتحان دے چکا تھا۔ اور ہسپتال میں مریضوں کو دوائیاں دینے کا کام بھی سیکھ چکا تھا۔ ظفر کے تعلیم حاصل کرنےکی کہانی بڑی دل چسپ ہے۔وہ شاید جنوری کے ابتدائی دن تھے جب میں نے اُس کو دوبارہ اسکول بھیجا۔ دوپہر کو سکول سے واپسی پر جو رو داد ظفر نے سنائی وہ خاصی حوصلہ شکن تھی۔ ظفر کے اُستاد ماسٹر شکور صاحب نے اُسے پہلے تو خوب جھاڑا کہ :نہ لکھنا آتا ہے اور نہ پڑھنا۔ آگیا ہے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے۔ غرض دن بھر وہ وقتاً فوقتاً پچھلے ریکارڈ کی روشنی میں نہ صرف تبصرے فرماتے رہے بلکہ اپنی طرف سے ظفرکے مستقبل کو بھی تاریک تر کر کے دکھاتے رہے۔ ظاہر ہے ماسٹر صاحب ایسی بے رحمی کا ثبوت دیں تو شاگرد ہمیشہ دو ہاتھ آگےچلتے ہیں۔
اگلے روز سکول جانے سے قبل ظفر میرے پاس آیا۔ اُس کی معصوم صورت پر بارہ بج رہے تھے۔ میں اُس کی پریشانی کی وجہ سمجھ چکا تھا۔ میں نے اُس سے کہا ظفر میاں اگر تم ماسٹر صاحب کو کچھ کر کے نہیں دکھاؤ گے تو ایسا ہی ہو گا۔ تمہیں ماسٹر شکورصاحب کو یہ بتانا ہو گا کہ تم ایک ذہین طالب علم ہو ۔ اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ اُستاد سخت ہو یار تم دل، ہمیشہ احترام اور محبت کے لائق ہی ہوتا ہے۔ اگر تم نے اُستاد کا احترام کیا تو اللہ نے چاہا تو وہ
تمہارے بارے میں اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
میری یہ باتیں ظفر کے دل میں بیٹھ گئیں۔ بس اب کیا تھا۔ وہ اُستاد کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔ وُہ اُستاد کی میز اور کرسی بڑی محبت سے صاف کرتا۔ ماسٹر صاحب کبھی پانی پینے کی خواہش کرتے تو وہ فور آپانی لے آتا۔یوں ایک دو ہفتوں بعد ہی ماسٹر صاحب کا رویہ بدل گیا، ایک
دن ماسٹر صاحب نے کوئی سخت بات کی تو ظفر نے آہستہ سے کہا:ماسٹر صاحب پڑھائی تو نہ جانے میری قسمت میں ہے یا نہیں، سوچا اُستاد کی چار دن خدمت ہی کر لوں۔ اِس سے اللہ اور اُس کے رسول راضی ہوتے ہیں۔
شاید یہی بات تھی یا ظفر کا مجموعی طرز عمل کہ بالآخر ایک روزماسٹر شکور صاحب نے اُس سے کہا کہ تم صبح ایک آدھ گھنٹہ پہلے آجایا کرو تو تمہاری پڑھائی کے جو کمزور پہلو ہیں ان کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
اب ظفر کو جب بھی وقت ملتا وہ ماسٹر صاحب سے کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا اور تقریباً 2 ماہ میں کمزور مضامین میں طاق ہو گیا۔ مارچ میں سالانہ امتحان ہوئے تو وہ بڑی آسانی سے پاس ہو گیا۔
ظفر کی پڑھائی اور نوکری سے اس کے ماں باپ بہت خوش تھے۔ مگر ایک عجیب بات یہ تھی کہ ظفر کی ماں کے دل میں اب بھی ظفری سائیکلوں والا بسا ہوا تھا۔
یونہی ماہ و سال گزرتے رہے اور ظفر کے گاؤں میں میرے پانچ سال گزر گئے۔ اس کے بعد میرا لاہور تبادلہ ہو گیا۔ لاہور آنے کے بعد میرا ایف۔ آر۔ سی۔ ایس کرنے کا پروگرام بن گیا اور میں امریکہ چلا گیا۔ امریکہ سے واپسی پر میں نے میڈ یکل پریکٹس شروع کر دی۔ مصروفیت کچھ اس قدر بڑھ گئی کہ ماضی کی سب باتیں بھول گئیں۔
مگر کل شام عجیب واقعہ پیش آیا۔ میرے چھوٹے بیٹے طلحہ کی سالگرہ تھی۔ میں اُسے سائیکل تحفے میں دینا چاہتا تھا۔ لہذا میں سائیکلوں والی مارکیٹ میں چلا گیا، وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ صاحب اگر اچھی سائیکل لینی ہے تو “ظفر سائیکل ڈیلرز” کے پاس چلے جائیں۔ وہ بڑا ایماندار شخص ہے۔
یہ سُن کر میں کشاں کشاں اُسی ڈیلر کے پاس چلا گیا۔ وہاں پہ پچیس سالہ نوجوان کو دیکھ کر مجھے فوراً اپنا بارہ سالہ ماضی یاد آگیا اور سڑک کے کنارے گھٹنوں میں سر دے کر روتا ہوا بچہ جس کا نام ظفری تھا۔۔۔ سامنے بیٹھا تھا۔

اپنی رائے دیجیے

Please enter your comment!
Please enter your name here